السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المحرم يموت باب: محرم (احرام کی حالت میں) فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 6641
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ بِعَرَفَةَ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: أَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ " أَوْ قَالَ: " فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَعَمْرٍو، وَقَالَ: " فِي ثَوْبَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عرفات میں ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے ساتھ اپنی اونٹنی پر تھا تو اس نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کپڑوں میں، اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“