السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المحرم يموت باب: محرم (احرام کی حالت میں) فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 6645
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ". كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَأَيْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي نُسْخَةٍ أُخْرَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي ثَوْبَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اور وہ محرم تھا، اسی حالت میں وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو پانی اور بیری سے اور سر کے علاوہ پورے جسم کو دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا، بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“