کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شہر سے باہر ایسی جگہ موجود شخص پر جمعہ کا فرض ہونا جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، ⦗٢٤٧⦘ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَمِنَ الْعَوَالِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں اور بستیوں سے جمعہ کے لیے آتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْهٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ مَقْصُورًا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ قَبِيصَةُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ مِنَ الثِّقَاتِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا هُوَ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جمعہ اس پر واجب ہے جو اذان سنتا ہو۔“
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے اور نبی ﷺ کا ذکر نہیں کیا، اسے صرف قبیصہ نے مرفوع بیان کیا ہے۔ قبیصہ بن عقبہ ثقہ راویوں میں سے ہیں اور یہ محمد بن سعید طائفی ہیں جو ثقہ ہیں، اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث سے اس کا شاہد بھی موجود ہے۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ایک جماعت نے سفیان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے اور نبی ﷺ کا ذکر نہیں کیا، اسے صرف قبیصہ نے مرفوع بیان کیا ہے۔ قبیصہ بن عقبہ ثقہ راویوں میں سے ہیں اور یہ محمد بن سعید طائفی ہیں جو ثقہ ہیں، اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث سے اس کا شاہد بھی موجود ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ". هَكَذَا ذَكَرَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا، وَرُوِيَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرٍو كَذَلِكَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ اس شخص پر ہے جو اذان کو سنتا ہے۔“
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: " إِنَّمَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، فَمَنْ سَمِعَةُ فَلَمْ يَأْتِهِ فَقَدْ عَصَى رَبَّهُ ". ⦗٢٤٨⦘ وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جمعہ اس پر واجب ہے جو اذان سنتا ہے اور جو اذان سن کر نہیں آتا، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔“
یہ روایت موقوف ہے۔
یہ روایت موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ ". تَابَعَهُ قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، عَنْ شُعْبَةَ فِي رَفْعِهِ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ، وَخَالَفَهُمَا غَيْرُهُمَا مِنَ الثِّقَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سن کر پھر اس کو قبول نہیں کرتا (یعنی نماز کے لیے نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں۔“
قراد ابو نوح نے شعبہ سے اسے مرفوع بیان کرنے میں ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، لیکن دوسرے ثقہ راویوں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔
قراد ابو نوح نے شعبہ سے اسے مرفوع بیان کرنے میں ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، لیکن دوسرے ثقہ راویوں نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ". فَذَكَرُوهُ مَوْقُوفًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَاهُ مَغْرَاءُ الْعَبْدِيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”جو اذان سن کر اس کا جواب نہیں دیتا (یعنی نماز کے لیے نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں سوائے عذر کے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سن کر اس کا جواب نہیں دیتا (یعنی نماز کے لیے نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ مَرْفُوعًا. وَرُوِيَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَارِغًا صَحِيحًا، فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو بردہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان کو سنا، وہ فارغ اور تندرست تھا، پھر اس نے جواب نہیں دیا (یعنی نماز کو نہیں آیا) اس کی کوئی نماز نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ". مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”جو اذان سنتا ہے پھر اس کا جواب نہیں دیتا (نماز کو نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں، لیکن عذر کی بنا پر گنجائش ہے۔“
یہ روایت موقوف ہے۔
یہ روایت موقوف ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، أنبأ أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ الْأَذَانَ فَارِغًا صَحِيحًا، ثُمَّ لَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ". كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا وَهْمًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن ابی بردہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جس نے تندرستی اور فراغت کی حالت میں اذان کو سنا، پھر وہ نماز کو نہیں آتا تو اس کی کوئی نماز نہیں۔
انہوں نے اسی طرح «عن ابی بکر بن ابی بردہ» کہا ہے، اور میرے خیال میں یہ وہم ہی ہے۔
انہوں نے اسی طرح «عن ابی بکر بن ابی بردہ» کہا ہے، اور میرے خیال میں یہ وہم ہی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ". قِيلَ: وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: مَنْ أَسْمَعَهُ الْمُنَادِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابوحبان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد میں ہی ہوتی ہے۔“ پوچھا گیا: مسجد کا ہمسایہ کون ہے؟ فرمایا: ”جو مؤذن کی اذان سنے۔“