أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ الْمِصْرِيُّ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْقِتْبَانِيُّ، ⦗٢٤٦⦘ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشْبَحِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بالغ شخص پر جمعہ واجب ہے اور جو جمعہ کو آئے اس پر غسل واجب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُرَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ: طَارِقُ بْنُ شِهَابٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعِجْلِيُّ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِيمِ فَوَصَلَهُ بِذِكْرِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فِيهِ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، فَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ أَيْضًا عَنْ إِسْحَاقَ دُونَ ذِكْرِ أَبِي مُوسَى فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر باجماعت جمعہ فرض ہے، لیکن غلام، عورت، بچہ اور مریض پر واجب نہیں۔“ ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو دیکھا تو ہے لیکن آپ ﷺ سے کچھ سنا نہیں۔
عبید بن محمد عجلی نے اسے عباس بن عبدالعظیم سے روایت کیا اور اس میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے اسے موصول بنا دیا، لیکن یہ محفوظ نہیں، کیونکہ عباس کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے اسحاق سے ابو موسیٰ کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
عبید بن محمد عجلی نے اسے عباس بن عبدالعظیم سے روایت کیا اور اس میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے اسے موصول بنا دیا، لیکن یہ محفوظ نہیں، کیونکہ عباس کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے اسحاق سے ابو موسیٰ کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَطْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي وَائِلٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِلَّا امْرَأَةً، أَوْ صَبِيًّا، أَوْ مَمْلُوكًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ نے بنو وائل کے ایک مرد سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورت، بچہ اور غلام کے علاوہ تمام مسلمانوں پر جمعہ فرض ہے۔“