کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جو اس سے بھی زیادہ دور سے اپنی مرضی سے نمازِ جمعہ کے لیے آئے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: " تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اذان سنے اس پر جمعہ فرض ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَقَدْ كَانَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَكُونَانِ بِالشَّجَرَةِ عَلَى أَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَمْيَالٍ فَيَشْهَدَانِ الْجُمُعَةَ وَيَدَعَانِهَا " قَالَ: " وَيُرْوَى أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ كَانَ عَلَى مِيلَيْنِ مِنَ الطَّائِفِ فَيَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَيَدَعُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن زید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما مقام شجرہ میں ہوتے تھے، جو چھ میل سے کم فاصلہ تھا۔ وہ جمعہ میں آ بھی جاتے اور کبھی چھوڑ بھی دیتے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما طائف میں دو میل کے فاصلے پر تھے، وہ بھی کبھی جمعہ میں آتے اور کبھی چھوڑ دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، " أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَأْتِي الْجُمُعَةَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ يَمْشِي وَهُوَ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی جعفر، اعرج سے روایت کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ذی الحلیفہ سے جمعہ پڑھنے کے لیے پیدل آتے تھے اور وہ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي سَبْرَةُ بْنُ ⦗٢٥٠⦘ الْعَلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، " أَنَّ أَهْلَ ذِي الْحُلَيْفَةِ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ عَلَى مَسِيرَةِ سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سبرہ بن علاء، زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ذوالحلیفہ والے نبی ﷺ کے ساتھ (جمعہ کے لیے) جمع ہوتے تھے اور یہ مدینہ سے چھ میل کی مسافت پر تھا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: " كَانَ أَهْلُ مِنًى يَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منیٰ والے مکہ میں جمعہ کے لیے آتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ مِشْحَلٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِالشَّجَرَةِ فَتَحْضُرُ الْجُمُعَةُ فَلَا يَنْزِلُ إِلَيْهَا، وَعِنْدَهُ دَوَابٌّ ". قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النُّزُولَ كَانَ لِلْاخْتِيَارِ وَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَى أَنَّ مَنْ أَوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ عِنْدَ انْصِرَافِهِ فَعَلَيْهِ الْحُضُورُ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت بن مسحل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مقام شجرہ میں ہوتے تھے، جمعہ کا وقت آ جاتا تو وہ اس کے لیے نہیں اترتے تھے، حالانکہ ان کے پاس سواری کے جانور ہوتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جمعہ میں آنے کا اختیار ہے اور جو صبح سفر میں جا کر رات تک واپس گھر پہنچ جائے، اس پر جمعہ میں حاضر ہونا واجب ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جمعہ میں آنے کا اختیار ہے اور جو صبح سفر میں جا کر رات تک واپس گھر پہنچ جائے، اس پر جمعہ میں حاضر ہونا واجب ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، مِنْ كِتَابِهِ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ ثُمَّ مَاتَ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " إِنَّمَا الْغُسْلُ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ، فَالْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ يَأْتِي أَهْلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ غسل اس شخص پر ہے جس پر جمعہ واجب ہے اور جمعہ اس پر واجب ہے جو (جمعہ پڑھ کر) اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچ سکتا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَرَ وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، " أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَمَرَ أَهْلَ ذِي الْحُلَيْفَةِ بِحُضُورِ الْجُمُعَةِ بِالْمَدِينَةِ فَكَانُوا يُجَمِّعُونَ بِهَا "..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ نے ذی الحلیفہ والوں کو حکم دیا کہ وہ مدینہ میں جمعہ کے لیے حاضر ہوں، پھر وہ وہاں جمعہ پڑھا کرتے تھے۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ولید کہتے ہیں: مجھے ابو عمرو نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے اسی طرح خبر دی۔
قَالَ الْوَلِيدُ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ: " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ أَتَى إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَا أَهْلَ قَرَدَ، يَا أَهْلَ رَاكِيَّةَ، وَأَقَاصِي الْغُوطَةِ، وَأَدَانِي الثَّنِيَّةِ، الْجُمُعَةَ الْجُمُعَةَ ". ⦗٢٥١⦘ وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ مُسْنَدٍ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ ذَكَرْنَاهُ لِيُعْرَفَ إِسْنَادُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مہاجر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا: جو اپنے گھر واپس لوٹ آئے اس پر جمعہ واجب ہے، اور وہ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے: اے اہل قرد! اے اہل راکیہ اور غوطہ کے گرد و نواح والو اور شنیہ کے قریب والو! جمعہ (ادا کیا کرو)، یہ بات انہوں نے دو مرتبہ فرمائی۔
یہ بات ایک مسند حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے، ہم نے اسے اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ اس کی سند پہچانی جائے۔
یہ بات ایک مسند حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے، ہم نے اسے اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ اس کی سند پہچانی جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُسْلِمٌ، عَنِ الْمُعَارِكِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّيْلَ يَأْوِيهِ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيَشْهَدِ الْجُمُعَةَ " تَفَرَّدَ بِهِ مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللهُ: مُعَارِكٌ لَا أَعْرِفُهُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَبُو عَبَّادٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو علم ہو کہ وہ رات اپنے گھر چلا جائے گا تو وہ جمعہ میں حاضر ہو۔“
اس روایت کو عبداللہ بن سعید سے بیان کرنے میں معارک بن عباد منفرد ہیں، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: معارک کو میں نہیں جانتا، اور عبداللہ بن سعید جو ابو عباد ہیں، منکر الحدیث اور متروک ہیں۔
اس روایت کو عبداللہ بن سعید سے بیان کرنے میں معارک بن عباد منفرد ہیں، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: معارک کو میں نہیں جانتا، اور عبداللہ بن سعید جو ابو عباد ہیں، منکر الحدیث اور متروک ہیں۔