السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: وجوب الجمعة على من كان خارج المصر في موضع يبلغه النداء باب: شہر سے باہر ایسی جگہ موجود شخص پر جمعہ کا فرض ہونا جہاں تک اذان کی آواز پہنچتی ہو
حدیث نمبر: 5589
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ". مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبردہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اذان سنتا ہے پھر اس کا جواب نہیں دیتا (نماز کو نہیں آتا) اس کی کوئی نماز نہیں، لیکن عذر کی بنا پر گنجائش ہے۔“