کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَجْنَا مَعَهُ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ ". قَالَ: قُلْتُ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِقَوْلِهِ: " فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا " أَيْ بِمَكَّةَ، وَمِنًى، وَعَرَفَاتٍ، وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَخْبَارَ الثَّابِتَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ فِي حَجَّتِهِ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ وَلَمْ يُحْسَبِ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ مَكَّةَ لِأَنَّهُ كَانَ فِيهِ سَائِرًا، وَلَا يَوْمُ التَّرْوِيَةِ لِأَنَّهُ خَارِجٌ فِيهِ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَارَ مِنْهَا إِلَى ⦗٢١٣⦘ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَبَاتَ بِهَا لَيْلَتَئِذٍ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى فَقَضَى بِهَا نُسُكَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى بِهَا طَوَافَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ ثُمَّ نَفَرَ مِنْهَا فَنَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، وَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ يُقِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ أَرْبَعًا يَقْصُرُ، وَهَذَا كُلُّهُ مَوْجُودٌ فِي الْمَجْمُوعِ مِنْ رِوَايَاتِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِمْ فِي قِصَّةِ الْحَجِّ، وَتِلْكَ الرِّوَايَاتُ بِسِيَاقِهَا تَرِدُ بِمَشِيئَةِ اللهِ فِي كِتَابِ الْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انیس دن مکہ میں قیام کیا اور دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم انیس دن دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ اگر اس سے زیادہ قیام کرتے تو پوری پڑھتے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم انیس دن دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ اگر اس سے زیادہ قیام کرتے تو پوری پڑھتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْمَنِيعِيٌّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا ". رَوَاهُ ⦗٢١٤⦘ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ عَنْ أَبِي شِهَابٍ، وَرَوَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ فَقَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ انیس دن سفر میں قصر کی اور فرماتے ہیں: اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَنَحْنُ نَقْصُرُ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو شہاب نے حدیث ذکر کی، اس کے آخر میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے سترہ دن قصر کی، اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو النَّمَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا قَصَرْنَا، وَإِذَا زِدْنَا أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ لُوَيْنٌ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْهُمَا، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا فِي سَبْعَ عَشْرَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ، ثنا لُوَيْنٌ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سفر فرمایا اور حالتِ قیام میں انیس دن نماز قصر کی۔ جب ہم نے سفر کیا تو انیس دن تک نماز قصر کرتے رہے اور جب زیادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔
(ب) ابو عوانہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو سترہ دن قیام میں نماز قصر کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سترہ دن کا قول بھی ذکر کیا ہے۔
(ب) ابو عوانہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو سترہ دن قیام میں نماز قصر کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سترہ دن کا قول بھی ذکر کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ ". وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ فَقَالَ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سفر کیا اور سترہ دن کے قیام میں آپ ﷺ نے نماز قصر کی۔
یہی حدیث معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔
یہی حدیث معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْجَوْزِيُّ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيُوسُفُ قَالُوا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثُ الْجَوْزِيِّ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا ". وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ وَسُرَيْجٍ: تِسْعَ عَشْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کیا اور انیس دن قیام جس میں آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب ہم سفر کرتے اور انیس دن قیام کرتے تو دو دو رکعات پڑھتے۔ جب ہم اس سے زائد قیام کرتے تو چار رکعات نماز پڑھتے۔
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کیا اور سترہ دن قیام کیا، آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ: " سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَتَمَّ ".
حافظ ثناء اللہ
حفص بن غیاث رحمہ اللہ، عاصم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سترہ دن کے قیام میں قصر ہے، جو سترہ دن کا قیام کرے وہ قصر کرے اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ تِسْعَةَ عَشَرَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ "..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”فتح کے سال انیس دن قیام کیا اور نماز قصر کی، یعنی دو دو رکعات پڑھتے رہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ "..
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مکہ میں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ حَتَّى سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ ". كَذَا رَوَاهُ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن عبداللہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”فتح مکہ کے سال پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے رہے، پھر حنین چلے گئے“۔ انھوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن میں اس کو محفوظ خیال نہیں کرتا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ: " ثُمَّ أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ حَتَّى سَارَ إِلَى حُنَيْنٍ ". ⦗٢١٦⦘ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالٍ الْوَهْبِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کی، پھر حنین چلے گئے۔
إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ فَإِنَّهُ رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرِوَايَةُ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے سال پندرہ دن قیام کیا اور نماز قصر کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: وَثنا يَعْقُوبُ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ زَمَانَ الْفَتْحِ بِثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو نضرہ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے زمانہ میں مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُحَاصِرًا الطَّائِفَ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى تِسْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى سَبْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ بِأَنَّ مَنْ رَوَاهَا تِسْعَ عَشْرَةَ عَدَّ يَوْمَ الدُّخُولِ وَيَوْمَ الْخُرُوجِ، وَمَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّ أَحَدَ الْيَوْمَيْنِ، وَمَنْ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ سترہ دن کیا اور آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو قیام کے انیس دن شمار کرتا ہے وہ مکہ میں داخلے کا دن اور نکلنے کا دن دونوں کو شامل کر کے انیس دن بناتا ہے۔
جو قیام کے 18 دن شمار کرتا ہے وہ آنے اور جانے کے دنوں میں سے ایک کو شمار کرتا ہے اور جو قیام کے 17 دن شمار کرتا ہے وہ ان دونوں دنوں کو شمار نہیں کرتا۔
شیخ فرماتے ہیں: جو قیام کے انیس دن شمار کرتا ہے وہ مکہ میں داخلے کا دن اور نکلنے کا دن دونوں کو شامل کر کے انیس دن بناتا ہے۔
جو قیام کے 18 دن شمار کرتا ہے وہ آنے اور جانے کے دنوں میں سے ایک کو شمار کرتا ہے اور جو قیام کے 17 دن شمار کرتا ہے وہ ان دونوں دنوں کو شمار نہیں کرتا۔