السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
حدیث نمبر: 5462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ ". وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ فَقَالَ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ: تِسْعَ عَشْرَةَ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ سفر کیا اور سترہ دن کے قیام میں آپ ﷺ نے نماز قصر کی۔
یہی حدیث معاویہ نے عاصم احول سے روایت کی ہے اور اکثر روایات میں انیس دن کا تذکرہ فرمایا ہے۔