السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَجْنَا مَعَهُ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ ". قَالَ: قُلْتُ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: عَشْرًا ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا أَرَادَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِقَوْلِهِ: " فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا " أَيْ بِمَكَّةَ، وَمِنًى، وَعَرَفَاتٍ، وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَخْبَارَ الثَّابِتَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ فِي حَجَّتِهِ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ وَلَمْ يُحْسَبِ الْيَوْمُ الَّذِي قَدِمَ فِيهِ مَكَّةَ لِأَنَّهُ كَانَ فِيهِ سَائِرًا، وَلَا يَوْمُ التَّرْوِيَةِ لِأَنَّهُ خَارِجٌ فِيهِ إِلَى مِنًى فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ سَارَ مِنْهَا إِلَى ⦗٢١٣⦘ عَرَفَاتٍ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَبَاتَ بِهَا لَيْلَتَئِذٍ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَفَعَ مِنْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى فَقَضَى بِهَا نُسُكَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ فَقَضَى بِهَا طَوَافَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا يَقْصُرُ ثُمَّ نَفَرَ مِنْهَا فَنَزَلَ بِالْمُحَصَّبِ فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، وَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ يُقِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ أَرْبَعًا يَقْصُرُ، وَهَذَا كُلُّهُ مَوْجُودٌ فِي الْمَجْمُوعِ مِنْ رِوَايَاتِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِمْ فِي قِصَّةِ الْحَجِّ، وَتِلْكَ الرِّوَايَاتُ بِسِيَاقِهَا تَرِدُ بِمَشِيئَةِ اللهِ فِي كِتَابِ الْحَجِّ.یحییٰ بن ابی اسحاق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو واپسی تک آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”تم مکہ میں کتنی دیر ٹھہرے؟“ انہوں نے فرمایا: ”دس دن۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے قول ”ہم نے وہاں دس دن قیام کیا“ سے مراد مکہ، منیٰ اور عرفات میں ٹھہرنا ہے، اس لیے کہ ثابت شدہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے حج میں مکہ تشریف لائے جب ذوالحجہ کے چار دن گزر چکے تھے، پھر آپ ﷺ نے وہاں تین دن قیام کیا اور قصر فرماتے رہے۔ مکہ میں آنے کے دن کو شمار نہیں کیا گیا، اس لیے کہ آپ ﷺ اس دن سفر میں تھے، اور نہ ہی یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو شمار کیا گیا، کیونکہ اس دن آپ ﷺ منیٰ چلے گئے جہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز ادا کی۔ پھر جب سورج طلوع ہوا تو وہاں سے عرفات کی طرف روانہ ہوئے، پھر غروبِ شمس کے وقت وہاں سے چلے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے اور وہ رات صبح تک وہیں گزاری۔ پھر وہاں سے چل کر منیٰ آئے اور اپنے مناسک ادا کیے۔ پھر مکہ جا کر طواف کیا۔ پھر منیٰ لوٹ کر وہاں تین دن قیام کیا اور قصر کرتے رہے۔ پھر وہاں سے کوچ کر کے وادیِ محصب میں اترے اور اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کروایا۔ پھر نکل کر بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور نمازِ فجر سے پہلے اس کا طواف کیا۔ پھر مدینہ کو چل دیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے کسی ایک جگہ چار دن قیام کر کے قصر نہیں کیا۔ یہ سب کچھ حج کے واقعہ میں سیدنا ابن عباس، سیدہ عائشہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم وغیرہ کی روایات کے مجموعے میں موجود ہے، اور وہ روایات اپنے سیاق کے ساتھ ان شاء اللہ کتاب الحج میں آئیں گی۔