کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے چار دن قیام کا پختہ ارادہ کر لیا تو وہ نماز پوری پڑھے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہما نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجر مناسک کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہریں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ سَائِبَ بْنَ يَزِيدَ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ فَقَالَ السَّائِبُ: سَمِعْتُ الْحَضْرَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلَاثٍ بَعْدَ الصَّدْرِ بِمَكَّةَ ". كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَكَذَا رَوَى فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ، وَحُمَيْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنَ السَّائِبِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے مکہ کے قیام کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ تو سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(حج کے مناسک سے) واپسی کے بعد مہاجر مکہ میں تین دن قیام کریں“، گویا آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ نہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ: مَا سَمِعْتُمْ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ فَقَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ، أَوْ قَالَ: الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، ⦗٢١١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے اہل مجلس سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے مکہ کے قیام کے بارے میں کچھ سن رکھا ہے؟ تو سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں نے علاء رضی اللہ عنہ سے سنا یا علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کہا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مناسک کی ادائیگی کے بعد مہاجر مکہ میں تین دن قیام کریں۔“
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ضَرَبَ لِلْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ بِالْمَدِينَةِ إِقَامَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَتَسَوَّقُونَ بِهَا وَيَقْضُونَ حَوَائِجَهُمْ، وَلَا يُقِيمُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ، وَبِمِثْلِهِ أَجَابَ فِي الْجَدِيدِ: مَنْ أَجْمَعَ إِقَامَةَ أَرْبَعٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَقَدْ رُوِّيتُ فِي ذَلِكَ أَحَادِيثَ. مِنْهَا: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
اسلم فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے لیے مدینہ میں بازار لگانے کے لیے تین دن قیام کی اجازت دی۔ وہ اپنی ضروریات بھی پوری کرتے تھے۔ تین دن کے بعد کسی کو قیام کی اجازت نہ تھی۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول میں فرمایا، اور جدید قول میں بھی یہی جواب دیا: جو چار دن قیام کا ارادہ کرے وہ پوری نماز ادا کرے گا۔ اور اس بارے میں مجھے کئی احادیث روایت کی گئی ہیں، ان میں سے ایک قتادہ کے واسطے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہے۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ نے قدیم قول میں فرمایا، اور جدید قول میں بھی یہی جواب دیا: جو چار دن قیام کا ارادہ کرے وہ پوری نماز ادا کرے گا۔ اور اس بارے میں مجھے کئی احادیث روایت کی گئی ہیں، ان میں سے ایک قتادہ کے واسطے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اسی طرح ہے۔
فَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخُرَاسَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: " مَنْ أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ وَهُوَ مُسَافِرٌ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ". قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن عبداللہ خراسانی نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ جو چار رات قیام کا ارادہ کرے اور وہ مسافر ہو تو نماز پوری پڑھے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا یہی مذہب ہے۔
" وَوَجَدْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَضَرَبَ لَهُمْ أَجَلًا ثَلَاثًا ". فَرَأَيْنَا ثَلَاثًا مِمَّا يُقِيمُ الْمُسَافِرُ، وَأَرْبَعًا كَأَنَّهَا بِالْمُقِيمِ أَشْبَهُ، لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يُقِيمَ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ كَانَ شَبِيهًا أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ الْمُهَاجِرَ، وَيَأْذَنَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْيَهُودِ. قَالَ الشَّيْخُ: فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
”اور ہم نے پایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو جزیرۂ عرب سے جلا وطن کیا اور ان کے لیے تین دن کی مہلت مقرر کی۔“ تو ہم نے سمجھا کہ تین دن اس مدت میں سے ہیں جس میں مسافر ٹھہرتا ہے، اور چار دن مقیم کے زیادہ مشابہ ہیں، کیونکہ اگر مسافر کے لیے تین دن سے زیادہ ٹھہرنا جائز ہوتا تو قرینِ قیاس تھا کہ نبی ﷺ مہاجر کو اس کا حکم دیتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہودیوں کو اس کی اجازت دیتے۔
شیخ فرماتے ہیں: رہی وہ حدیث جو آگے آ رہی ہے:
شیخ فرماتے ہیں: رہی وہ حدیث جو آگے آ رہی ہے:
أَخْبَرَنَا بِهِ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ الْقَزَّازُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْصُرُ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَأَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (سفر پر) نکلے، ہم قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ مکہ پہنچ گئے، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا، اور آپ ﷺ واپسی تک قصر ہی کرتے رہے۔