السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
حدیث نمبر: 5460
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، فَذَكَرَهُ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَنَحْنُ نَقْصُرُ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا ".حافظ ثناء اللہ
ابو شہاب نے حدیث ذکر کی، اس کے آخر میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے سترہ دن قصر کی، اگر ہم زیادہ قیام کرتے تو نماز پوری پڑھتے۔