السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر يقصر ما لم يجمع مكثا ما لم يبلغ مقامه ما أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح باب: مسافر جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے قصر کرتا رہے، جب تک کہ اس کا قیام اس مدت کو نہ پہنچ جائے جتنا رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں قیام فرمایا تھا
حدیث نمبر: 5472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُحَاصِرًا الطَّائِفَ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى تِسْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى سَبْعَ عَشْرَةَ، وَرِوَايَةِ مَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ بِأَنَّ مَنْ رَوَاهَا تِسْعَ عَشْرَةَ عَدَّ يَوْمَ الدُّخُولِ وَيَوْمَ الْخُرُوجِ، وَمَنْ رَوَى ثَمَانِ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّ أَحَدَ الْيَوْمَيْنِ، وَمَنْ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَمْ يَعُدَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف کا محاصرہ سترہ دن کیا اور آپ ﷺ دو دو رکعات پڑھتے رہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو قیام کے انیس دن شمار کرتا ہے وہ مکہ میں داخلے کا دن اور نکلنے کا دن دونوں کو شامل کر کے انیس دن بناتا ہے۔
جو قیام کے 18 دن شمار کرتا ہے وہ آنے اور جانے کے دنوں میں سے ایک کو شمار کرتا ہے اور جو قیام کے 17 دن شمار کرتا ہے وہ ان دونوں دنوں کو شمار نہیں کرتا۔