أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ " أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ، وَهُوَ شَابٌّ أَعْزُبُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجدِ نبوی میں سوتے تھے اور وہ کنوارے نوجوان تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ النَّضْرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرًا وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَقَدِمْتُهَا وَلَيْسَ لِي بِهَا عَرِيفٌ فَنَزَلَتِ الصُّفَّةَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَافِقُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَيَقْسِمُ بَيْنَهُمَا مُدًّا مِنْ تَمْرٍ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ قَالَ: وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَصَاحِبِي مَكَثْنَا بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ غَيْرُ الْبَرِيرِ "، وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ " حَتَّى أَتَيْنَا إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَآسَوْنَا مِنْ طَعَامِهِمْ، وَكَانَ جُلُّ طَعَامِهِمُ التَّمْرَ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ قَدَرْتُ لَكُمْ عَلَى الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ، أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ تَلْبَسُونَ أَمْثَالَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى وَيُرَاحُ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أَوِ الْيَوْمَ؟ قَالَ: " لَا بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ، أَنْتُمُ الْيَوْمَ إِخْوَانٌ، وَأَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ نصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ ہجرت کر کے گیا۔ جب بھی کوئی شخص مدینہ ہجرت کر کے آتا، اگر تو کوئی اس کا جاننے والا ہوتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا اور اگر نہ ہوتا تو وہ اصحابِ صفہ کے ساتھ رہتا۔ میں آیا تو میری بھی کوئی جان پہچان نہیں تھی، چنانچہ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ رہا۔ نبی کریم ﷺ دو دو آدمیوں کو باہم ساتھی بنا رہے تھے اور ان کے درمیان ایک مد کھجور تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ نماز میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آواز دی: اے اللہ کے رسول! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا اور ہمارے سینے پھٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد اس پریشانی کا تذکرہ کیا جو آپ ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے پہنچی تھی، پھر فرمایا: ”میں اور میرا ساتھی دس راتوں سے زائد ٹھہرے رہے اور ہمارے پاس پیلو کے سوا کوئی کھانا نہیں تھا، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے۔ انہوں نے کھانے کے ذریعے ہماری مدد کی، ان کا بہترین کھانا کھجور تھا۔ اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اگر میں روٹی اور گوشت کھلانے کی طاقت رکھتا تو تمہیں ضرور کھلاتا، عنقریب تمہارے اوپر وہ دور آئے گا یا تم میں سے جو اسے پا لے گا (وہ دیکھے گا کہ) تم کعبہ کے غلافوں کی مثل پہنو گے اور صبح و شام تم پر شراب کا دور چلے گا۔“ انہوں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم آج بہتر ہو کہ تم بھائی بھائی ہو اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں توڑو گے۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْدَانِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزْنَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا أَبُو حَامِدٍ الرَّوَادِيُّ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ: " لَمَّا كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بِالْمَدِينَةِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ دَارٌ وَلَا مَأْوًى أَنْزَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَسَمَّاهُمْ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ، فَكَانَ يُجَالِسُهُمْ وَيَأْنَسُ بِهِمْ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " فَأَيْنَ كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ؟ " يَعْنِي يَنَامُونَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عثمان بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں مہاجرین زیادہ ہو گئے اور ان کے لیے کوئی گھر اور ٹھکانا نہ رہا تو نبی ﷺ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا اور انہیں ”اصحابِ صفہ“ کا نام دیا۔ آپ ﷺ ان کے پاس بیٹھ کر پیار بھری باتیں کیا کرتے تھے۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل صفہ کہاں سوتے تھے، یعنی وہ بھی مسجد میں ہی سوتے تھے۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل صفہ کہاں سوتے تھے، یعنی وہ بھی مسجد میں ہی سوتے تھے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ ⦗٦٢٥⦘ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " الْحَقْ" وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ " قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ، أَوْ فُلَانَةُ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ: " الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ يَبْعَثُ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ فَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " خُذْ فَأَعْطِهِمْ" فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَأُعْطِيَهُ الْآخَرَ فَيَشْرَبَ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ وَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، وَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " بَقِيَتُ أَنَا وَأَنْتَ" قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْعُدْ فَاشْرَبْ" فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ، فَقَالَ: " اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: " اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ: " فَاشْرَبْ، فَأَشْرَبُ" حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ: " فَأَرِنِي" فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قسم ہے معبودِ برحق اللہ رب العزت کی کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر رگڑا کرتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ میری بات نہ سمجھ سکے اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا اور میری غرض صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ بھی میری بات کو سمجھے بغیر ہی چلے گئے۔ آخر کار ابوالقاسم (نبی ﷺ) کا بھی اس راہ سے گزر ہوا اور آپ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل اور چہرے کی کیفیت کو پہچان لیا، پھر آپ ﷺ نے مجھے پکارا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر! یا رسول اللہ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ چلیں!“ تو میں نبی ﷺ کے پیچھے پیچھے چلتا گیا، حتیٰ کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو اجازت طلب کرنے کے بعد میں بھی آپ ﷺ کے گھر میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں پر پیالے میں دودھ دیکھا تو پوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواباً کہا: ”یہ فلاں بندے یا فلاں عورت نے آپ ﷺ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔“ تو آپ ﷺ نے مجھے اہل صفہ کو بلانے کے لیے بھیجا اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ گھر اور مال کے متلاشی نہ تھے، جب کبھی آپ ﷺ کے پاس صدقے کا مال آتا آپ ﷺ اس سے کچھ لیے بغیر ان کی طرف بھیج دیتے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی تحفہ آتا تو تب بھی آپ ﷺ انہیں شریک کرتے اور آپ ﷺ اب بھی انہیں دودھ میں شریک کرنا چاہتے تھے، مجھے یہ بات ناگوار گزری، میں نے سوچا کہ اس دودھ کی اصحابِ صفہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ میرا یہ ارادہ تھا کہ یہ دودھ مجھے مل جائے تاکہ میں اپنی بھوک کو دور کروں اور قاصد بھی میں ہی تھا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں لے کر آؤں اور مجھے دودھ کے ملنے کی امید نہ تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بھی ضروری تھی۔ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا کر لایا، انہوں نے اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی تو وہ گھر میں بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پیالہ لو اور ان کو دودھ پلاؤ۔“ میں نے پیالہ پکڑا، میں ایک آدمی کو دیتا وہ سیر ہو کر پینے کے بعد پیالہ واپس کرتا۔ پھر میں دوسرے کو دیتا وہ بھی سیر ہو کر پیالہ واپس کرتا۔ یہاں تک کہ میں نبی ﷺ تک پہنچ گیا اور تمام لوگوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ پکڑا اور میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیو!“ تو میں نے پیا، پھر فرمایا: ”اور پیو!“ اور تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”پیو!“ میں نے پیا، آپ ﷺ بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے تو میں نے عرض کیا: ”قسم ہے اللہ کی! اب تو میں بالکل گنجائش نہیں پاتا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دو۔“ میں نے پیالہ آپ ﷺ کو دیا، آپ ﷺ نے اللہ کی تعریف کی اور «بِسْمِ اللّٰہِ» ”اللہ کا نام لینے“ کے بعد باقی ماندہ دودھ پی لیا۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتُمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذَا أَبِيتَ، فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا تُرَابٍ، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لَهَا: " أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟ " فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي، ⦗٦٢٦⦘ فَخَرَجَ وَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ: " انْظُرْ أَيْنَ هُوَ " فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ: " قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کو بلا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا، جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو وہ بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ کیوں رکھا گیا؟ فرمانے لگے: نبی ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تیرے چچا کا بیٹا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟“ فرمانے لگیں: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ ﷺ نے کسی بندے سے فرمایا: ”دیکھو وہ کہاں ہیں؟“ اس بندے نے آ کر جواب دیا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی ﷺ مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔“
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، ثنا يُونُسُ، أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ يَقِيلُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَى بِجَنْبِهِ، فَيَقُولُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ " قَالَ يُونُسُ بِإِصْبَعِهِ وَحَرَّكَ أَبُو بَكْرٍ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ " قُلْتُ لِيُونُسَ: ابْنُ كَمْ كَانَ الْحَسَنُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ: " ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَتِهِمُ النَّوْمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَكَأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْكَنًا أَنْ لَا يَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوتے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے: یہ ہیں امیر المؤمنین۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسجد میں سونا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے جن کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسجد میں سونا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے جن کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو۔
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ بِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو جس غرض سے مسجد میں آتا ہے وہی اس کا حصہ ہے۔“