السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسلم يبيت في المسجد باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتُمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَأَبَى سَهْلٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَّا إِذَا أَبِيتَ، فَقُلْ: لَعَنَ اللهُ أَبَا تُرَابٍ، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا كَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْمٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ؟ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لَهَا: " أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟ " فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي، ⦗٦٢٦⦘ فَخَرَجَ وَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ: " انْظُرْ أَيْنَ هُوَ " فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ: " قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آلِ مروان کا کوئی شخص مدینہ پر حاکم بنایا گیا، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کو بلا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا تو اس نے کہا: اگر آپ گالی نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا کہہ دو کہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ نام سب ناموں سے زیادہ محبوب تھا، جب ان کو اس نام سے پکارا جاتا تو وہ بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ان کا نام «أَبُو تُرَابٍ» ”ابو تراب“ کیوں رکھا گیا؟ فرمانے لگے: نبی ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تیرے چچا کا بیٹا (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کہاں ہے؟“ فرمانے لگیں: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور واپس نہیں لوٹے۔ آپ ﷺ نے کسی بندے سے فرمایا: ”دیکھو وہ کہاں ہیں؟“ اس بندے نے آ کر جواب دیا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، نبی ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور ان کے پہلو سے چادر ہٹی ہوئی تھی اور ان کو مٹی لگی ہوئی تھی۔ نبی ﷺ مٹی کو صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اے ابو تراب! اٹھو، اے ابو تراب! اٹھو۔“