السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسلم يبيت في المسجد باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى، ثنا يُونُسُ، أَنَّ الْحَسَنَ سُئِلَ عَنِ الْقَائِلَةِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ يَقِيلُ فِي الْمَسْجِدِ، وَيَقُومُ وَأَثَرُ الْحَصَى بِجَنْبِهِ، فَيَقُولُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ " قَالَ يُونُسُ بِإِصْبَعِهِ وَحَرَّكَ أَبُو بَكْرٍ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ غِلْمَانٌ " قُلْتُ لِيُونُسَ: ابْنُ كَمْ كَانَ الْحَسَنُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ؟ قَالَ: " ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، وُلِدَ الْحَسَنُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَا يَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَتِهِمُ النَّوْمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَكَأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا لِمَنْ وَجَدَ مَسْكَنًا أَنْ لَا يَقْصِدَ الْمَسْجِدَ لِلنَّوْمِ فِيهِ.حسن بصری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ مسجد میں قیلولہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ خلیفہ تھے تو مسجد میں قیلولہ کیا کرتے تھے۔ جب وہ بیدار ہوتے تو کنکریوں کے نشانات ان کے پہلو پر ہوتے تھے۔ تو وہ فرماتے: یہ ہیں امیر المؤمنین۔
(ب) راوی یونس نے اپنی انگلی کو حرکت دی اور ابوبکر نے بھی اپنی انگلی کو حرکت دی اور اس وقت ہم بچے تھے، ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے یونس سے کہا: سیدنا حسن رحمہ اللہ کی عمر کتنی تھی جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: چودہ سال۔ سیدنا حسن رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال باقی تھے۔
(ح) سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسجد میں سونا ان کے لیے ناپسندیدہ ہے جن کی اپنی رہائش گاہ موجود ہو۔