السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسلم يبيت في المسجد باب: مسلمان کا مسجد میں رات گزارنے کا بیان
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ ⦗٦٢٥⦘ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ تَعَالَى مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " الْحَقْ" وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ " قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ، أَوْ فُلَانَةُ قَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ: " الْحَقْ أَهْلَ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ يَبْعَثُ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ فَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " خُذْ فَأَعْطِهِمْ" فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَأُعْطِيَهُ الْآخَرَ فَيَشْرَبَ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدَّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ وَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، وَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ، وَقَالَ: " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " بَقِيَتُ أَنَا وَأَنْتَ" قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْعُدْ فَاشْرَبْ" فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ، فَقَالَ: " اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: " اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ: " فَاشْرَبْ، فَأَشْرَبُ" حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ: " فَأَرِنِي" فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قسم ہے معبودِ برحق اللہ رب العزت کی کہ میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر رگڑا کرتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کی عام گزرگاہ پر بیٹھ گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ میری بات نہ سمجھ سکے اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا اور میری غرض صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں، لیکن وہ بھی میری بات کو سمجھے بغیر ہی چلے گئے۔ آخر کار ابوالقاسم (نبی ﷺ) کا بھی اس راہ سے گزر ہوا اور آپ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور میرے دل اور چہرے کی کیفیت کو پہچان لیا، پھر آپ ﷺ نے مجھے پکارا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”حاضر! یا رسول اللہ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ چلیں!“ تو میں نبی ﷺ کے پیچھے پیچھے چلتا گیا، حتیٰ کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوگئے تو اجازت طلب کرنے کے بعد میں بھی آپ ﷺ کے گھر میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں پر پیالے میں دودھ دیکھا تو پوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواباً کہا: ”یہ فلاں بندے یا فلاں عورت نے آپ ﷺ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔“ تو آپ ﷺ نے مجھے اہل صفہ کو بلانے کے لیے بھیجا اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ گھر اور مال کے متلاشی نہ تھے، جب کبھی آپ ﷺ کے پاس صدقے کا مال آتا آپ ﷺ اس سے کچھ لیے بغیر ان کی طرف بھیج دیتے اور جب آپ ﷺ کے پاس کوئی تحفہ آتا تو تب بھی آپ ﷺ انہیں شریک کرتے اور آپ ﷺ اب بھی انہیں دودھ میں شریک کرنا چاہتے تھے، مجھے یہ بات ناگوار گزری، میں نے سوچا کہ اس دودھ کی اصحابِ صفہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ میرا یہ ارادہ تھا کہ یہ دودھ مجھے مل جائے تاکہ میں اپنی بھوک کو دور کروں اور قاصد بھی میں ہی تھا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں لے کر آؤں اور مجھے دودھ کے ملنے کی امید نہ تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت بھی ضروری تھی۔ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا کر لایا، انہوں نے اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی تو وہ گھر میں بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پیالہ لو اور ان کو دودھ پلاؤ۔“ میں نے پیالہ پکڑا، میں ایک آدمی کو دیتا وہ سیر ہو کر پینے کے بعد پیالہ واپس کرتا۔ پھر میں دوسرے کو دیتا وہ بھی سیر ہو کر پیالہ واپس کرتا۔ یہاں تک کہ میں نبی ﷺ تک پہنچ گیا اور تمام لوگوں نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ آپ ﷺ نے پیالہ پکڑا اور میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”جی! اے اللہ کے رسول!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیو!“ تو میں نے پیا، پھر فرمایا: ”اور پیو!“ اور تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”پیو!“ میں نے پیا، آپ ﷺ بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے تو میں نے عرض کیا: ”قسم ہے اللہ کی! اب تو میں بالکل گنجائش نہیں پاتا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دو۔“ میں نے پیالہ آپ ﷺ کو دیا، آپ ﷺ نے اللہ کی تعریف کی اور «بِسْمِ اللّٰہِ» ”اللہ کا نام لینے“ کے بعد باقی ماندہ دودھ پی لیا۔