حدیث نمبر: 4338
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْدَانِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزْنَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا أَبُو حَامِدٍ الرَّوَادِيُّ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ قَالَ: " لَمَّا كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بِالْمَدِينَةِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ دَارٌ وَلَا مَأْوًى أَنْزَلَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَسَمَّاهُمْ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ، فَكَانَ يُجَالِسُهُمْ وَيَأْنَسُ بِهِمْ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " فَأَيْنَ كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ؟ " يَعْنِي يَنَامُونَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عثمان بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں مہاجرین زیادہ ہو گئے اور ان کے لیے کوئی گھر اور ٹھکانا نہ رہا تو نبی ﷺ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا اور انہیں ”اصحابِ صفہ“ کا نام دیا۔ آپ ﷺ ان کے پاس بیٹھ کر پیار بھری باتیں کیا کرتے تھے۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان سے مسجد میں سونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل صفہ کہاں سوتے تھے، یعنی وہ بھی مسجد میں ہی سوتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4338
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»