کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنے اور دیگر ایسے کاموں کی کراہت کا بیان جو مسجد کے لائق نہیں ہیں
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ وَأنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حَيْوَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللهُ إِلَيْكَ، إِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ " لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " ⦗٦٢٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ تیری چیز واپس نہ کرے؛ مسجدیں اس لیے نہیں بنائی گئیں۔“
(ب) ابن وہب کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ تیری چیز واپس نہ لوٹائے، مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جاتیں۔“
(ب) ابن وہب کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ تیری چیز واپس نہ لوٹائے، مسجدیں اس لیے نہیں بنائی جاتیں۔“
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ فِي الْمَسْجِدِ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو سرخ اونٹ کے بارے میں اعلان کرتے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نہ پائے، مسجدیں تو جس غرض سے بنائی گئیں اسی کے لیے ہیں۔“
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہہ دو: «لَا أَرْبَحَ اللّٰهُ تِجَارَتَكَ» ”اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے“ اور جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ گم شدہ چیز کا مسجد میں اعلان کر رہا ہے تو کہہ دو: «لَا رَدَّ اللّٰهُ عَلَيْكَ ضَالَّتَكَ» ”اللہ تیری چیز تجھے واپس نہ کرے۔“”
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، ایک شخص نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ فرمانے لگے: جاؤ ان دو آدمیوں کو میرے پاس لے کر آؤ، میں لے کر آیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم دونوں کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف کے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر تم اس شہر کے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا، تم نبی ﷺ کی مسجد میں آواز کو بلند کر رہے ہو۔
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ " نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع کیا ہے“۔
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَنَّائِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا بِشْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ زَادَ " نَهْيَهُ عَنْ تَعْرِيفِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں اور کچھ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ ”مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور خرید و فروخت سے“ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
وَقَدْ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: ⦗٦٢٨⦘ أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَحَظَهُ، فَقَالَ: أَفِي الْمَسْجِدِ؟ فَقَالَ: " وَاللهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ " قَالَ: فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَ وَتَرَكَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو ان کو تیز نظروں سے دیکھا اور فرمایا: کیا مسجد میں؟ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر موجود تھے یعنی نبی ﷺ۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ ڈرے کہ یہ بات نبی ﷺ کے ذمہ لگا دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اجازت دی اور چھوڑ دیا۔۔۔
(ب) سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، ان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری جانب سے قریش کو جواب دو، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔“
(ج) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔
(ب) سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، ان میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری جانب سے قریش کو جواب دو، اللہ آپ کی مدد فرمائے جبرائیل کے ذریعے۔“
(ج) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اشعار پڑھتے تھے، مسجد میں اور مسجد کے علاوہ ہر جگہ جائز ہے۔