کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: خون کی وہ مقدار جسے دھونا واجب ہے اس کا بیان
❮
❯
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ، قَالَتْ: ⦗٥٦٦⦘ حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ تُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا فَبَعَثَ إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ: " اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا، ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ " فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا، ثُمَّ أَجْفَفْتُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَيْهِ قَوْلُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، يَعْنِي رَدَدْتُهَا إِلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
ام جحدر عامریہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے ساتھ تھی اور ہمارے جسموں کے ساتھ لگنے والے کپڑے تھے، ان کے اوپر ہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں، نبی ﷺ نے صبح کے وقت وہ چادر لی اور اسے اوڑھ لیا، پھر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس کی رنگت خون کی وجہ سے بدلی ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے وہاں سے کپڑا اکٹھا کر کے ایک بچے کے ہاتھ میں میری طرف بھیج دیا اور فرمایا: ”اس کو دھو اور خشک کر کے میری طرف بھیج دینا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پیالے میں پانی منگوا کر اسے دھویا اور خشک کر کے نبی ﷺ کو واپس بھیج دیا۔ نبی ﷺ دوپہر کو آئے تو وہی کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4092
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداؤد 388»
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ إِمْلَاءً ثنا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ: " تُعَادُ الصَّلَاةُ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ مِنَ الدَّمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ کپڑے کو ایک درہم کے برابر خون لگنے سے نماز کو دوبارہ ادا کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4093
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ العقيلي في الضعف 2/56/491»
أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: رَأَيْتُ رَوْحَ بْنَ غُطَيْفٍ صَاحِبَ الدَّمِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ مَجْلِسًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَحْيِي مِنْ أَصْحَابِي أَنْ يَرَوْنِي جَالِسًا مَعَهُ لِكَثْرَةِ مَا فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي الْمَنَاكِيرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عبدالملک بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب درہم کی مقدار کے برابر خون والی حدیث کے راوی روح بن غطیف کو دیکھا، میں ایک مجلس میں اس کے پاس بیٹھا تو مجھے اپنے ساتھیوں سے شرم محسوس ہونے لگی کہ وہ مجھے اس کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ لیں گے، کیونکہ اس کی بیان کردہ احادیث میں منکر روایات کی بہتات تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4094
أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: تَحْفَظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُعَادُ الصَّلَاةُ فِي مِقْدَارِ الدِّرْهَمِ مِنَ الدَّمِ؟ " فَقَالَ: لَا وَاللهِ، ثُمَّ قَالَ: مِمَّنْ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: ثِقَةٌ عَمَّنْ؟ قُلْتُ: عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: ثِقَةٌ عَمَّنْ؟ قُلْتُ: عَنْ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ: مَا قُلْتَ يَا أَبَا زَكَرِيَّا مَا أَرَى أُتِينَا إِلَّا مِنْ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ: أَجَلْ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا لَا يَرْوِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيمَا أَعْلَمُهُ غَيْرُ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ وَهُوَ مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ قَالَ: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَوْضُوعًا وَرَوْحٌ هَذَا مَجْهُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: کیا آپ کو زہری عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ کی سند سے یہ (حدیث) یاد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک درہم کے برابر خون (لگنے) سے نماز دوبارہ پڑھی جائے گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! پھر کہا: یہ کس سے (ملی)؟ میں نے کہا: ہمیں محرز بن عون نے بیان کی۔ انہوں نے کہا: ثقہ ہے، اس نے کس سے؟ میں نے کہا: قاسم بن مالک مزنی سے۔ انہوں نے کہا: ثقہ ہے، اس نے کس سے؟ میں نے کہا: روح بن غطیف سے۔ (میں نے کہا:) اے ابوزکریا! آپ کیا کہتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ خرابی صرف روح بن غطیف کی طرف سے پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔
ابواحمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق اسے زہری سے روح بن غطیف کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا اور یہ اس سند کے ساتھ منکر ہے۔ اور مجھے محمد بن یحییٰ ذہلی سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ موضوع (من گھڑت) ہو، اور یہ روح مجہول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4095
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن عدي في الكامل 3/138/660»
أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، الْمَعْرُوفُ بِأَبِي شَيْخٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنَ ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي دَمِ الْحُبُونِ، يَعْنِي الدَّمَامِيلَ " وَكَانَ عَطَاءٌ يُصَلِّي وَهُوَ فِي ثَوْبِهِ، رَوَاهُ جِمَاعَةٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ هَذَا تَفَرَّدَ بِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنْبَأَ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ: هَذَا الْحَدِيثُ لَا يُعْرَفُ إِلَّا بِبَقِيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ بَقِيَّةَ وَبَيْنَ ابْنِ جُرَيْجٍ بَعْضُ الْمَجْهُولِينَ، أَوْ بَعْضُ الضُّعَفَاءِ؛ لِأَنَّ بَقِيَّةَ كَثِيرًا مَا يَفْعَلُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ”پھوڑے کے خون لگے ہوئے کپڑے میں نماز پڑھنے کی رخصت دی ہے“۔ اور عطاء اسی حالت میں کہ وہ (خون) ان کے کپڑے پر ہوتا، نماز پڑھ لیتے تھے۔
اسے ابن جریج سے روایت کرنے میں بقیہ بن ولید منفرد ہیں۔ حافظ ابواحمد بن عدی فرماتے ہیں: یہ حدیث صرف بقیہ عن ابن جریج کی سند سے معروف ہے، اور غالب گمان ہے کہ بقیہ اور ابن جریج کے درمیان کچھ مجہول یا کچھ ضعیف راوی ہیں، کیونکہ بقیہ اکثر ایسا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4096
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن عدي في الكامل 2/65»
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُهُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فِيهِ تَحِيضُ فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا، ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَالَ، قَالَتْ: بِرِيقِهَا فَمَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، اسی میں حیض آجاتا، اگر کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا تو اپنے لعاب کے ذریعے تر کر کے اس کو اپنے ناخن سے کھرچ کر صاف کر دیتیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4097
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 312»
أَنْبَأَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو زَرْعَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِ الْبُخَارِيِّ وَمَتْنِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَصَعَتْهُ وَالْمَشْهُورُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ رَوَاهُ خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ، كَمَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فَهُوَ صَحِيحٌ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
یہ سابقہ حدیث کی ایک اور سند ہے۔
یہ روایت دونوں طرق سے صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4098
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجِدَةَ، ثنا خَلَّادٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَا كَانَ لِإحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ وَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمِهِ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا، ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا " وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَطْرَةٌ مِنْ دَمٍ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا اور اس میں حیض آ جاتا، اگر حیض کا خون کپڑے کو لگ جاتا تو اپنے لعاب کے ذریعے تر کر کے اس کو اپنے ناخن سے کھرچ کر صاف کر دیتیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4099
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقد حواله مذكوره»
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ ⦗٥٦٨⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا كَانَ الدَّمُ فَاحِشًا فَعَلَيْهِ الْإِعَادَةُ وَإِنْ كَانَ قَلِيلًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِعَادَةٌ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الدَّمِ الْيَسِيرِ وَقَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُمَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، وَرُوِي عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خون زیادہ ہو تو نماز کا اعادہ ہے، اگر خون کم ہو تو نماز نہیں دہرائی جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4100
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن منذر في الاوسط 1/173-2/153»
وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أنه قَالَ: رَآنِي أَبِي انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَقَالَ: لِمَ انْصَرَفْتَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: دَمُ ذُبَابَةٍ رَأَيْتُ فِي ثَوْبِي قَالَ: فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ، وَقَالَ: " لِمَا انْصَرَفْتَ حَتَّى تُتِمَّ صَلَاتَكَ " فِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامٍ: دَمٌ مِثْلُ الذُّبَابِ، وَكَانَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ يَقُولُ: " قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ " وَمَذْهَبُ سَائِرِ الْفُقَهَاءِ بِخِلَافِهِ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ كَثِيرِ الدَّمِ وَيَسِيرِهِ، وَرَخَّصَ فِي دَمِ الْبَرَاغِيثِ عَطَاءٌ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَالشَّعْبِيُّ وَطَاوُسٌ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو چھوڑا تو مجھے میرے باپ نے دیکھ لیا، کہنے لگے: نماز کو کیوں چھوڑا؟ میں نے کہا: میں نے اپنے کپڑوں میں مکھی کا خون دیکھا۔ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ تو نے نماز مکمل کیوں نہیں کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»