حدیث نمبر: 4101
وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أنه قَالَ: رَآنِي أَبِي انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَقَالَ: لِمَ انْصَرَفْتَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: دَمُ ذُبَابَةٍ رَأَيْتُ فِي ثَوْبِي قَالَ: فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ، وَقَالَ: " لِمَا انْصَرَفْتَ حَتَّى تُتِمَّ صَلَاتَكَ " فِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامٍ: دَمٌ مِثْلُ الذُّبَابِ، وَكَانَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ يَقُولُ: " قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ " وَمَذْهَبُ سَائِرِ الْفُقَهَاءِ بِخِلَافِهِ فِي الْفَرْقِ بَيْنَ كَثِيرِ الدَّمِ وَيَسِيرِهِ، وَرَخَّصَ فِي دَمِ الْبَرَاغِيثِ عَطَاءٌ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَالشَّعْبِيُّ وَطَاوُسٌ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو چھوڑا تو مجھے میرے باپ نے دیکھ لیا، کہنے لگے: نماز کو کیوں چھوڑا؟ میں نے کہا: میں نے اپنے کپڑوں میں مکھی کا خون دیکھا۔ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ تو نے نماز مکمل کیوں نہیں کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 4101
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»