السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يجب غسله من الدم باب: خون کی وہ مقدار جسے دھونا واجب ہے اس کا بیان
أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: تَحْفَظُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُعَادُ الصَّلَاةُ فِي مِقْدَارِ الدِّرْهَمِ مِنَ الدَّمِ؟ " فَقَالَ: لَا وَاللهِ، ثُمَّ قَالَ: مِمَّنْ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: ثِقَةٌ عَمَّنْ؟ قُلْتُ: عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: ثِقَةٌ عَمَّنْ؟ قُلْتُ: عَنْ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ: مَا قُلْتَ يَا أَبَا زَكَرِيَّا مَا أَرَى أُتِينَا إِلَّا مِنْ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ: أَجَلْ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا لَا يَرْوِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيمَا أَعْلَمُهُ غَيْرُ رَوْحِ بْنِ غُطَيْفٍ وَهُوَ مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الذُّهْلِيِّ قَالَ: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَوْضُوعًا وَرَوْحٌ هَذَا مَجْهُولٌ.احمد بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: کیا آپ کو زہری عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ کی سند سے یہ (حدیث) یاد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک درہم کے برابر خون (لگنے) سے نماز دوبارہ پڑھی جائے گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! پھر کہا: یہ کس سے (ملی)؟ میں نے کہا: ہمیں محرز بن عون نے بیان کی۔ انہوں نے کہا: ثقہ ہے، اس نے کس سے؟ میں نے کہا: قاسم بن مالک مزنی سے۔ انہوں نے کہا: ثقہ ہے، اس نے کس سے؟ میں نے کہا: روح بن غطیف سے۔ (میں نے کہا:) اے ابوزکریا! آپ کیا کہتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ خرابی صرف روح بن غطیف کی طرف سے پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔
ابواحمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میرے علم کے مطابق اسے زہری سے روح بن غطیف کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا اور یہ اس سند کے ساتھ منکر ہے۔ اور مجھے محمد بن یحییٰ ذہلی سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ موضوع (من گھڑت) ہو، اور یہ روح مجہول ہے۔