السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يجب غسله من الدم باب: خون کی وہ مقدار جسے دھونا واجب ہے اس کا بیان
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ، قَالَتْ: ⦗٥٦٦⦘ حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ دَمِ الْحَيْضَةِ تُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا فَبَعَثَ إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ: " اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا، ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ " فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا، ثُمَّ أَجْفَفْتُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَيْهِ قَوْلُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، يَعْنِي رَدَدْتُهَا إِلَيْهِ.ام جحدر عامریہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے کو حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے ساتھ تھی اور ہمارے جسموں کے ساتھ لگنے والے کپڑے تھے، ان کے اوپر ہم نے چادریں اوڑھی ہوئی تھیں، نبی ﷺ نے صبح کے وقت وہ چادر لی اور اسے اوڑھ لیا، پھر آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس کی رنگت خون کی وجہ سے بدلی ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے وہاں سے کپڑا اکٹھا کر کے ایک بچے کے ہاتھ میں میری طرف بھیج دیا اور فرمایا: ”اس کو دھو اور خشک کر کے میری طرف بھیج دینا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پیالے میں پانی منگوا کر اسے دھویا اور خشک کر کے نبی ﷺ کو واپس بھیج دیا۔ نبی ﷺ دوپہر کو آئے تو وہی کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔