کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز پڑھی اور اس کے کپڑے یا جوتے میں کوئی گندگی یا نجاست لگی تھی جس کا اسے علم نہ تھا، پھر اسے معلوم ہو گیا
أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ فَصَلَّى النَّاسُ فِي نِعَالِهِمْ، ثُمَّ أَلْقَى نَعْلَيْهِ فَأَلْقَى النَّاسُ نِعَالَهُمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ فِي الصَّلَاةِ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ فَفَعَلْنَا فَقَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا أَذًى، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ أَذًى وَإِلَّا فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی اور لوگوں نے بھی اپنے جوتوں میں ہی نماز پڑھ لی، پھر آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے نماز کی حالت میں ہی اتار دیے۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو فرمایا: ”نماز کی حالت میں کس چیز نے تمہیں جوتے اتارنے پر ابھارا؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو (ایسا) کرتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی ویسا ہی کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی تھی کہ اس میں گندگی ہے، جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اسے دیکھنا چاہیے، اگر تو وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو اتار دے، ورنہ جوتوں میں ہی نماز پڑھ لے۔“
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ قَالَ: " لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا قَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا خَبَثًا، فَإِنْ وَجَدَ خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ فِيهِمَا " هَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ بِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَبْدِ رَبِّهِ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ مَحْفُوظٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے خبر دی کہ جوتوں میں گندگی ہے۔ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو جوتوں کو الٹ پلٹ کر ان میں گندگی دیکھ لے، اگر ان میں گندگی ہو تو زمین کے ساتھ انہیں رگڑ لے، پھر ان میں نماز پڑھے۔“
یہ حدیث حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ عبد ربہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے معروف ہے۔ یہ حجاج بن حجاج عن ابی عامر خزاز عن ابی نعامہ کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہے، اور ایک دوسری غیر محفوظ سند سے ایوب سختیانی عن ابی نضرہ بھی مروی ہے۔
یہ حدیث حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ عبد ربہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے معروف ہے۔ یہ حجاج بن حجاج عن ابی عامر خزاز عن ابی نعامہ کی سند سے بھی مروی ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہے، اور ایک دوسری غیر محفوظ سند سے ایوب سختیانی عن ابی نضرہ بھی مروی ہے۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ الشَّافِعِيُّ بِمَكَّةَ ثنا عَمِّي، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ أَبِي عُرْوَةَ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ، ثُمَّ خَلَعَهُمَا، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ جَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جِئْتُمُ الْمَسْجِدَ فَانْظُرُوا فِي نِعَالِكُمْ فَمَنْ وَجَدَ شَيْئًا فَلْيَحُكَّهُ " وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: وَقَالَ: " قَذَرًا " وَلَمْ يَقُلْ: خَبَثًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جوتوں سمیت نماز پڑھائی، پھر ان کو اتار دیا، آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے خبر دی کہ ان میں گندگی ہے، جب تم مسجد میں آؤ تو اپنے جوتوں کو دیکھ لیا کرو، اگر کوئی چیز لگی ہو تو اسے صاف کر دو۔“
أنبأ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنَبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي فِي رِدَائِهِ وَفِيهِ دَمٌ فَأَتَاهُ نَافِعٌ فَنَزَعَ عَنْهُ رِدَاءَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ رِدَاءَهُ وَمَضَى فِي صَلَاتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خون آلود چادر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ نافع رحمہ اللہ آئے اور ان سے چادر اتار کر اپنی چادر ان کے اوپر ڈال دی اور وہ نماز میں مصروف رہے۔
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي رَأَى فِي ثَوْبِهِ دَمًا فَانْصَرَفَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوهُ بِمَاءٍ فَغَسَلَهُ، ثُمَّ أَتَمَّ مَا بَقِيَ عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ وَلَمْ يُعِدْ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ رَحِمَهُ اللهُ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي مَعْنَى مَا رُوِّينَا، ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ فِي الْجَدِيدِ وَقَالَ: أَعَادَ الصَّلَاةَ وَكَانَ عَالِمًا بِمَا كَانَ فِي ثَوْبِهِ أَوْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا كَهَيْئَتِهِ فِي الْوُضُوءِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَأَبِي قِلَابَةَ وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ رَغِبَ عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ لِاشْتِهَارِهِ بَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَكَذَلِكَ لَمْ يَحْتَجَّ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَمْ يُخْرِجُهُ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِهِ مَعَ احْتِجَاجِهِ بِهِمْ فِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَيُحْتَمَلُ ⦗٥٦٥⦘ أَنْ يَكُونَ رَغِبَ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَ إِعْلَامَ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِيَّاهُ بِذَلِكَ ابْتِدَاءَ شَرْعٍ أَوْ حَمَلَ الْأَذَى الْمَذْكُورَ عَنْهُ عَلَى مَا يُسْتَقْذَرُ مِنَ الطَّهَارَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَمِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الرَّاعِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَأَبُو حَمْزَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْهُ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَوَاهُ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ تَرَكُوهُ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَعَبَّادٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے اپنے کپڑوں میں خون دیکھا تو نماز کو چھوڑ دیا اور ان کی طرف اشارہ کیا، وہ پانی لے کر آئے، انہوں نے کپڑے کو دھویا اور باقی نماز مکمل کی اور نماز کو دوبارہ نہیں لوٹایا۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہی ہے؛ کیونکہ انہوں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات سے دلیل لی ہے، لیکن بعد میں رجوع کر لیا، فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا اسے پہلے سے اپنے کپڑوں میں (ناپاکی کا) علم ہو یا نہ ہو، جیسے وضو کا حکم ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی حسن بصری اور ابوقلابہ کا قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس لیے اعراض کیا کہ وہ حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے مشہور ہے اور ان میں سے ہر ایک کی عدالت میں اختلاف ہے، اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان میں سے کسی سے دلیل نہیں لی اور امام مسلم نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا، حالانکہ وہ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں ان سے دلیل لیتے ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اس سے اس لیے اعراض کیا ہو کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کے آپ ﷺ کو اس کی خبر دینے کو ایک نئے حکم کا آغاز سمجھا، یا اس میں مذکور گندگی کو ایسی پاک چیز پر محمول کیا جس سے گھن آتی ہو۔ واللہ اعلم۔ یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی سے نبی ﷺ سے مرسل مروی ہے، اور ابن مسعود، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے موصول بھی مروی ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف ابوحمزہ راعی نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے اور ابوحمزہ قابلِ حجت نہیں، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو صرف فرات بن سائب نے میمون بن مہران سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور فرات بن سائب کو محدثین نے ترک کر دیا ہے؛ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف عباد بن کثیر نے روایت کیا ہے اور عباد قابلِ حجت نہیں، البتہ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے مروی ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم قول یہی ہے؛ کیونکہ انہوں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات سے دلیل لی ہے، لیکن بعد میں رجوع کر لیا، فرماتے ہیں کہ وہ نماز کا اعادہ کرے گا اسے پہلے سے اپنے کپڑوں میں (ناپاکی کا) علم ہو یا نہ ہو، جیسے وضو کا حکم ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی حسن بصری اور ابوقلابہ کا قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس لیے اعراض کیا کہ وہ حماد بن سلمہ عن ابی نعامہ سعدی عن ابی نضرہ کی سند سے مشہور ہے اور ان میں سے ہر ایک کی عدالت میں اختلاف ہے، اسی طرح امام بخاری نے اپنی صحیح میں ان میں سے کسی سے دلیل نہیں لی اور امام مسلم نے بھی اسے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا، حالانکہ وہ اس روایت کے علاوہ دیگر روایات میں ان سے دلیل لیتے ہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے اس سے اس لیے اعراض کیا ہو کہ انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کے آپ ﷺ کو اس کی خبر دینے کو ایک نئے حکم کا آغاز سمجھا، یا اس میں مذکور گندگی کو ایسی پاک چیز پر محمول کیا جس سے گھن آتی ہو۔ واللہ اعلم۔ یہ حدیث بکر بن عبداللہ مزنی سے نبی ﷺ سے مرسل مروی ہے، اور ابن مسعود، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے موصول بھی مروی ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف ابوحمزہ راعی نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے روایت کیا ہے اور ابوحمزہ قابلِ حجت نہیں، اور یہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو صرف فرات بن سائب نے میمون بن مہران سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور فرات بن سائب کو محدثین نے ترک کر دیا ہے؛ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو صرف عباد بن کثیر نے روایت کیا ہے اور عباد قابلِ حجت نہیں، البتہ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے مروی ہے جس میں کوئی حرج نہیں۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَخْلَعْ نَعْلَيْهِ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا مَرَّةً، فَخَلَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: " مَا لَكُمْ؟ " قَالُوا: خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، فَقَالَ: " إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا " لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا الَّذِي كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ مِنَ الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلَاةِ فِي هَذَا، وَفِي الرُّعَافِ، فَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: يَسْتَأْنِفُ وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى الْوُضُوءِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کی حالت میں سوائے ایک مرتبہ کے کبھی جوتے نہیں اتارے، (اس موقع پر) لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے جوتے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو خبر دی کہ ان میں گندگی ہے۔“
اس کو بیان کرنے میں عبداللہ بن مثنیٰ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس (کپڑے پر خون) اور نکسیر کی صورت میں پہلی نماز پر ہی بنا کر لیتے اور مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے، اور اس مسئلے میں وضو پر قیاس یہی ہے۔
اس کو بیان کرنے میں عبداللہ بن مثنیٰ منفرد ہیں، واللہ اعلم۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس (کپڑے پر خون) اور نکسیر کی صورت میں پہلی نماز پر ہی بنا کر لیتے اور مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ وہ نئے سرے سے نماز پڑھے، اور اس مسئلے میں وضو پر قیاس یہی ہے۔