کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ ⦗٤٢٦⦘ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي، فَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَنْ أُصَلِّيَ مَعَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ امراء میں سے ایک شخص نماز کو مؤخر کر کے ادا کرتا تھا۔ میں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: میں نے اپنے خلیل یعنی نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اس کے بعد اگر تو لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پالے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب میں تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھوں گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: أَخَّرَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ فَسَأَلْتُهُ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي: وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوعالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن زیاد رحمہ اللہ نے نماز مؤخر کر کے ادا کی تو میں حضرت عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے ملا، انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: میں نے اپنے خلیل حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے خلیل نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اگر تو جماعت کو پا لے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب نہیں پڑھتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ كَمَا هُوَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي قَالَ: " فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت بسر بن محجن رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے، نماز کے لیے اذان کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے نماز ادا کی۔ پھر لوٹے تو حضرت محجن رضی اللہ عنہ آپ کی مجلس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کون سی چیز نے روکا ہے؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میں نے اپنے گھر نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو اگرچہ تم نے نماز پڑھ لی ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سند سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَجَاءَ رَجُلَانِ حَتَّى وَقَفَا عَلَى رَوَاحِلِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا: " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتُمَا مُسْلِمَيْنِ؟ " قَالَا: بَلَى ⦗٤٢٧⦘ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ لَهُمَا: " إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلَّيَا مَعَهُ فَإِنَّهُمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن یزید بن اسود رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو دو آدمی آئے اور اپنی سواریوں پر ہی رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلانے کا حکم دیا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن ہم نے تو گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ بھی لو، پھر تم جماعت کو پالو تو جماعت کے ساتھ بھی پڑھو، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
بنو اسد بن خزیمہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور وہاں نماز ہو رہی ہو تو کیا ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے؟ میرے دل میں اضطراب سا رہتا ہے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے اس سے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَفِيفِ بْنِ عُمَرَ السَّهْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، فَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: نَعَمْ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد کو آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پاتا ہوں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کروں؟ تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں پڑھ لیا کرو، جو اس طرح کرے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے یا فرمایا: تمام نمازیوں کے برابر ثواب ہے۔