السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3642
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَفِيفِ بْنِ عُمَرَ السَّهْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، فَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: نَعَمْ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ ".حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد کو آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پاتا ہوں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کروں؟ تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں پڑھ لیا کرو، جو اس طرح کرے تو اس کے لیے دگنا اجر ہے یا فرمایا: تمام نمازیوں کے برابر ثواب ہے۔