السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ كَمَا هُوَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي قَالَ: " فَإِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت بسر بن محجن رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے، نماز کے لیے اذان کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ نے نماز ادا کی۔ پھر لوٹے تو حضرت محجن رضی اللہ عنہ آپ کی مجلس میں اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہا: ”تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کون سی چیز نے روکا ہے؟ کیا تو مسلمان نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن میں نے اپنے گھر نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو اگرچہ تم نے نماز پڑھ لی ہو۔“