السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ ".حافظ ثناء اللہ
بنو اسد بن خزیمہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر مسجد میں آئے اور وہاں نماز ہو رہی ہو تو کیا ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے؟ میرے دل میں اضطراب سا رہتا ہے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے اس سے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے دوہرا ثواب ہے۔“