السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3640
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَجَاءَ رَجُلَانِ حَتَّى وَقَفَا عَلَى رَوَاحِلِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا: " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتُمَا مُسْلِمَيْنِ؟ " قَالَا: بَلَى ⦗٤٢٧⦘ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ لَهُمَا: " إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلَّيَا مَعَهُ فَإِنَّهُمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن یزید بن اسود رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی تو دو آدمی آئے اور اپنی سواریوں پر ہی رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلانے کا حکم دیا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! لیکن ہم نے تو گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ بھی لو، پھر تم جماعت کو پالو تو جماعت کے ساتھ بھی پڑھو، وہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“