السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الرجل يصلي وحده ثم يدركها مع الإمام باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے نماز پڑھے پھر اسے امام کے ساتھ پا لے
حدیث نمبر: 3637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: أَخَّرَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ فَسَأَلْتُهُ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي: وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَرَبَ فَخِذِي فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوعالیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیداللہ بن زیاد رحمہ اللہ نے نماز مؤخر کر کے ادا کی تو میں حضرت عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے ملا، انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: میں نے اپنے خلیل حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے خلیل نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کر، اگر تو جماعت کو پا لے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ نہ کہہ کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اب نہیں پڑھتا۔“