حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ ⦗٥٧⦘ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، وَالْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے۔“
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ اور حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے کہ ”جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ اور حمیدی نے سفیان بن عیینہ سے روایت کیا ہے کہ ”جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ " فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: يَا فَارِسِيُّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، أَوْ قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَهَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ سُفْيَانُ: دَخَلْتُ عَلَى الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ. هَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَتَابَعَهُ عَلَى إِسْنَادِهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَصْرِيُّ، وَجَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَرَوَوْهُ عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَخَالَفَهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ ”جس نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے“، آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے ابوہریرہ! میں کبھی امام کے پیچھے بھی تو ہوتا ہوں (تو اس وقت کیا کروں؟) تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے فارسی! تو اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے نماز (فاتحہ) کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ کچھ ہے جو وہ مجھ سے مانگے، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی، اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری حمد و ثنا کی، اور جب بندہ کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی یا فرمایا: میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا، اور جب بندہ عرض کرتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ سوال کرے، جب بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7)﴾ [سورة الفاتحة: 2 - 7]
سفیان کہتے ہیں: میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
سفیان کہتے ہیں: میں علا بن عبدالرحمن کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بیمار تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٨⦘ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن زہرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو وہ نماز ناقص اور نامکمل ہے“، تین مرتبہ فرمایا۔ ہشام بن زہرہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کبھی کبھار میں امام کی اقتدا میں نماز ادا کررہا ہوتا ہوں؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو کو پکڑا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے، یہ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پڑھا کرو، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”بدلے کے دن کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کا جن پر غصہ کیا گیا اور نہ گمراہوں کا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”روزِ جزا کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے“، باقی حدیث اسی طرح ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پڑھا کرو، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”بدلے کے دن کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کا جن پر غصہ کیا گیا اور نہ گمراہوں کا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”روزِ جزا کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے“، باقی حدیث اسی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ السَّرْجِسِيُّ قَالَا: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ جَمِيعًا، وَكَانَا جَلِيسَيْنِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ " انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَذَكَرَ أَبُو نَصْرٍ الْفَامِيُّ بَاقِي الْحَدِيثَ بِنَحْوِ رِوَايَةِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي أُوَيْسٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَزَادَ فِيهِ التَّسْمِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ ناقص اور نامکمل ہے“۔
(ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «بِسْمِ اللّٰہِ» کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔
(ب) عبداللہ بن زیاد بن سمعان کے واسطے سے علا نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «بِسْمِ اللّٰہِ» کے الفاظ بھی نقل فرمائے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونٍ الذُّهْلِيُّ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَسَمْتُ هَذِهِ السُّورَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللهُ: ذَكَرَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ: اللهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: میں نے یہ سورۃ (فاتحہ) اپنے اور بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر لی ہے۔ جب جب بندہ کہتا ہے: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میرا ذکر کیا ہے۔ پھر جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ہے، پھر جب بندہ کہتا ہے: ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: ﴿اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ " فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فِي أَوَّلِهِ، ثُمَّ زَادَ التَّسْمِيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: " فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَانِ " وَآخِرُ السُّورَةِ " لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ، ابْنُ سَمْعَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثِ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ عَجْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، وَأَبُو أُوَيْسٍ، وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْهُمْ فِي الْإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔“
(ب) انہوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن «بِسْمِ اللّٰهِ» کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم۔
(ب) انہوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن «بِسْمِ اللّٰهِ» کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ " فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أُخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عطا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر نماز میں قرأت ہے، جس نماز میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سنایا (یعنی جہری قرأت کی) ہم نے بھی آپ کو سنایا اور جس نماز میں آپ نے ہم سے چھپایا (یعنی آہستہ قرأت کی) ہم نے بھی آپ سے چھپایا۔ جو سورہ فاتحہ پڑھے تو وہ اسے کفایت کر جائے گی اور جو زیادہ پڑھے تو وہ افضل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَقُولُ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} إِنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ میں نے بصرہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز ادا کی، انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی ایک آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھا کرو۔“
(ب) علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔“ سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔
(ب) علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔“ سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔