السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعيين القراءة بفاتحة الكتاب باب: قراءت کے لیے سورۃ الفاتحہ کے متعین ہونے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ " فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فِي أَوَّلِهِ، ثُمَّ زَادَ التَّسْمِيَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: " فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَانِ " وَآخِرُ السُّورَةِ " لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ، ابْنُ سَمْعَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثِ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ عَجْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، وَأَبُو أُوَيْسٍ، وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْهُمْ فِي الْإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز نامکمل اور ناقص ہے۔“
(ب) انہوں نے اس کے شروع میں ابن عیینہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا، لیکن «بِسْمِ اللّٰهِ» کا اضافہ کیا اور حدیث کے آخر میں ذکر کیا کہ ”یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے اور اس سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ج) اس حدیث کو معتمد راویوں کی ایک جماعت نے علا بن عبدالرحمن سے نقل کیا ہے، ان میں مالک بن انس، ابن جریج، روح بن قاسم، ابن عیینہ، ابن عجلان، حسن بن حر، ابو اویس اور ان کے علاوہ متعدد اصحاب ہیں۔ ان کی سند میں اختلاف تو ہے لیکن متن پر اتفاق ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنی حدیث میں «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو ذکر نہیں کیا اور ان کا اتفاق ابن سمعان کی روایت کردہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث پر ہے جو درستگی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم۔