کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
حدیث نمبر: 2372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، وَعِنْدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ: " إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: " وَإِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ ⦗٦١⦘ فَاجْمَعْهُ قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللهِ لَوْ كَلَّفَنِي بِنَقْلِ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا كَلَّفَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ وَاللهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَيَا قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَالرِّقَاعِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ، فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: ١٢٨] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ، أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ، فَأَلْحَقْتُهَا فِي السُّورَةِ، وَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے جنگ یمامہ کے میدانِ کارزار سے واپس بلایا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ یمامہ کی لڑائی میں قرآن کے قراء شہید ہو گئے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی طرح مختلف محاذوں میں قرآن کے قراء شہید ہوتے رہے تو بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا (جو صرف سینوں میں ہے)۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم فرما دیں۔“ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”جو کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا، وہ میں کیسے کروں؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے۔“ اور وہ برابر مجھ سے اس کام کے لیے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا جس کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جو رائے تھی وہی رائے میری بھی قرار پائی۔
”آپ نوجوان اور عقل مند آدمی ہیں، ہمیں آپ پر اعتبار بھی ہے اور آپ نبی کریم ﷺ کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ایسا کریں کہ قرآن کو تلاش کر کے اس کو اکٹھا کریں۔“ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اتنا بھاری اور سخت نہ ہوتا جتنا یہ کام (قرآن جمع کرنا) مشکل معلوم ہوا۔ میں نے عرض کیا: ”آپ لوگ ایسا کام کیوں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا؟“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(اگرچہ نہیں کیا) مگر اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہے۔“ اور وہ مسلسل مجھے اس بارے میں کہتے رہے۔ یہاں تک کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی، اسی طرح میرے دل میں بھی ڈال دی اور میری رائے بھی ان کی رائے کی طرح ہو گئی۔ لہٰذا میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، میں نے اسے کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128]۔۔۔ سیدنا خزیمہ یا سیدنا ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی تو میں نے اس کو سورہ توبہ کے ساتھ ملا لیا۔ پھر یہ مصحف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے پاس رہا، پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس منتقل ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 7191»
حدیث نمبر: 2373
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْكُشْمِيهَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِيبٍ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: وَثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " فَقَدْتُ آيَةً مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْأَحْزَابِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ، قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے سورہ الاحزاب کی وہ آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا۔“ کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 2807»
حدیث نمبر: 2374
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي وِلَايَتِهِ، وَكَانَ يَغْزُو مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ قِبَلَ أَرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ فِي غَزْوِهِمْ ذَلِكَ الْفَرْجَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ فَتَنَازَعُوا فِي الْقُرْآنِ حَتَّى سَمِعَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ فِيهِ مَا ادَّعُوهُ، فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْقُرْآنِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي الْكُتُبِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا إِلَيْهِ حَفْصَةُ، فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَسَعِيدَ بْنَ ⦗٦٢⦘ الْعَاصِ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ " وَقَالَ لَهُمْ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْرِقُوا كُلَّ مُصْحَفٍ يُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِي أَرْسَلَ بِهِ، وَذَلِكَ زَمَانَ أُحْرِقَتِ الْمَصَاحِفُ " لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ: ابْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَدَّ الْمُصْحَفِ إِلَى حَفْصَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَذَكَرَهَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ حَمْزَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَكَتَبُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَنْ تُمْحَى أَوْ تُحْرَقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَعَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَتَيْنِ جَمِيعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣].
حافظ ثناء اللہ
اور اس سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے، جب کہ وہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی طرف اہل عراق کے ساتھ شریکِ جہاد تھے۔ وہ اہل عراق اور اہل شام کی سرحد پر برسرپیکار تھے تو وہاں اہل عراق اور اہل شام نے قرآن کی قراءت میں اختلاف کیا حتیٰ کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے اختلاف کا پتا چلا تو وہ سہم گئے اور فوراً مدینہ کو عازمِ سفر ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! (خدارا) اس امت کی خبر لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس واقعہ سے حیران ہو گئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ مصحف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا کہ جب تمہارا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہو جائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہو گئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف انہیں واپس کر دیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔
ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے میں حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابوالیمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2374
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 2807»
حدیث نمبر: 2375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الْقُرْآنِ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَاءَتِي خَيْرٌ مِنْ قِرَاءَتِكَ " قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَمَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْيَوْمَ فِي الْقِرَاءَةِ، وَأَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أجْمَعَهُمْ عَلَى قِرَاءَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ: فَأَجْمَعَ رَأْيَنَا مَعَ رَأْيِهِ عَلَى ذَلِكَ " قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَوْ وُلِّيتُ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا، حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا: میری قراءت، تیری قراءت سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا: لوگ آج قراءت میں اختلاف کر چکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو، میرا خیال ہے کہ میں انہیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہماری رائے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہو گئی اور فرمانے لگے: جس طرح کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا، اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخ دمشق 39/ 245»
حدیث نمبر: 2376
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَاءَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينِ وَإِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَجْعَلُوا بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ يَقُولُ: " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا " فَإِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ السُّورَةُ " يَقُولُ: " ضَعُوا هَذِهِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا " وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولًا، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا تُشْبِهُ قِصَّتَهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ أَمْرَهَا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَجْعَلْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ " فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي مَصَاحِفِ الصَّحَابَةِ مَعَ دَلَالَةِ الْمُشَاهَدَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي فَوَاتِحِ السُّوَرِ لِنُزُولِهَا، وَعِنْدَ نُزُولِهَا كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ سُورَةٍ وَابْتِدَاءُ أُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورہ توبہ کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات دو سو کے قریب ہیں، اور سورہ انفال کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات اسی (٨٠) کے قریب ہیں، ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے؟“ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی تھیں۔ جب آپ ﷺ پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے: ”ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو“ اور جب آپ ﷺ پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے: ”اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو)“ اور سورہ انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورہ توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔)“
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی، یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کر چکے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورہ ختم ہو گئی ہے اور دوسری شروع ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2376
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 786»
حدیث نمبر: 2377
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورت کے اختتام کو اس وقت نہیں پہچانتے تھے حتیٰ کہ آپ پر «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» نازل ہوتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2377
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 669»
حدیث نمبر: 2378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَعْلَمُونَ انْقِضَاءَ السُّورَةِ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَإِذَا نَزَلَتْ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَلِمُوا أَنَّ السُّورَةَ قَدِ انْقَضَتْ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمُ بْنُ النُّعَيْمِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ إِلَّا أَنَّهُ قَصَرَ بِهِ فَلَمْ يَذْكُرُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت تک سورہ کے اختتام کا علم نہ ہوتا تھا جب تک کہ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ نازل نہ ہو جاتی اور جب «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» نازل ہو جاتی تو وہ سمجھ لیتے کہ سورہ مکمل ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2378
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه اخرجه الطحاوي في مشكل الآثار 3/406»
حدیث نمبر: 2379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٦٤⦘ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخِسْرُوجَرَدْ مِنْ أُصُولِهِ نا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: ٢] ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ " قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ، تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي فَيَخْتَلِجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي " فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ پر (غشی) ہلکی اونگھ طاری ہوگئی۔ (اونگھ کے بعد) آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا تو پڑھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] ”شروع اللہ رحمن ورحیم کے نام کے ساتھ بلاشبہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کی۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے، بیشک آپ کا دشمن ہی بےنام و نشاں ہوگا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ اس کے برتن (گلاس وغیرہ) ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں، اس پر میری امت آئے گی، ان میں سے بعض کو روکا جائے گا تو میں کہوں گا: اے اللہ! یہ تو میرا امتی ہے۔ جواباً کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے دین میں کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 6/ 305/ 31655»
حدیث نمبر: 2380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ " فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ إِلَى آخِرِهَا} " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ وَعَلَى لَفْظِهِ أَيْضًا رَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ آنِفًا، وَالْمَشْهُورُ فِيمَا بَيْنَ أَهْلِ التَّفْسِيرِ وَالْمَغَازِي أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ مَكِّيَّةٌ، وَلَفْظُ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ لَا يُخَالِفُ قَوْلَهُمْ فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَوْلَى.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے کہ اچانک آپ پر اونگھ طاری ہو گئی، پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟ آپ نے فرمایا: ”ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ ﷺ پڑھنے لگے۔ ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الکوثر: 1]۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ ]
(ب) انہی الفاظ سے اور بھی کئی راویوں نے اس کو نقل کیا ہے اور بعض راویوں نے «آنفًا» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اس بارے میں اہل تفسیر اور مغازی کے ہاں مشہور قول یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور علی بن حجر کی حدیث کے الفاظ ان کے خلاف نہیں ہیں، شاید یہ بہتر ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2380
حدیث نمبر: 2381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، ثنا جَعْفَرٌ، ثنا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي ذِكْرِ الْإِفْكِ، قَالَتْ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: " أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ} الْآيَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ كَلَامِ حُمَيْدٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عِنْدَ افْتِتَاحِ سُورَةٍ، وَلَمْ يَقْرَأْهَا عِنْدَ افْتِتَاحِ آيَاتٍ لَمْ تَكُنْ أَوَّلَ سُورَةٍ، وَفِي ذَلِكَ تَأْكِيدٌ لِمَا رُوِّينَاهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَأَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي الْمَصَاحِفِ حَيْثُ نَزَلَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ افک سے متعلق منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے، آپ نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور یہ آیت تلاوت کی: ”«أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی جو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے، شیطان مردود سے“ ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ﴾ [سورة النور: 11]“۔
(ب) ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے خدشہ ہے کہ استعاذہ کی زیادتی حمید کا کلام نہ ہو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے“ سورت شروع کرنے سے پہلے پڑھی اور آپ ﷺ نے وہ آیات جو سورت کے شروع میں نہ ہوں ان سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اس میں اس کی بھی تاکید ہے جو ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ بسم اللہ مصاحف میں تب ہی لکھی جاتی جب نازل ہوتی۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2381
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابوداود 783»
حدیث نمبر: 2382
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ثنا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ} [الفاتحة: ٢] فَإِذَا فَرَغَ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: لِمَ كُتِبَتْ فِي الْمُصْحَفِ إِنْ لَمْ تَقْرَأْ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر پڑھتے: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 1-2]۔۔۔ جب سورہ فاتحہ سے فارغ ہوئے تو «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] پڑھی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: اگر اس کو پڑھا نہ جائے تو پھر یہ قرآن میں لکھی کیوں گئی ہے؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2382
درجۂ حدیث محدثین: قوي
تخریج حدیث «قوي»