السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعيين القراءة بفاتحة الكتاب باب: قراءت کے لیے سورۃ الفاتحہ کے متعین ہونے کا بیان
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ ⦗٥٨⦘ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ ".ہشام بن زہرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ الفاتحہ کی تلاوت نہیں کی تو وہ نماز ناقص اور نامکمل ہے“، تین مرتبہ فرمایا۔ ہشام بن زہرہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! کبھی کبھار میں امام کی اقتدا میں نماز ادا کررہا ہوتا ہوں؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو کو پکڑا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم کر لیا ہے، یہ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے۔“
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پڑھا کرو، جب بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری تعریف کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”بدلے کے دن کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور جب بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ» ”ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے سوال کیا اور بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کا جن پر غصہ کیا گیا اور نہ گمراہوں کا“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو اس نے مانگا۔“
(ب) مذکورہ حدیث کے الفاظ قتیبہ کے ہیں اور قعنبی کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کہتا ہے: «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ”روزِ جزا کا مالک“ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میرے بندے نے میری بزرگی اور بڑائی بیان کی ہے اور یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے“، باقی حدیث اسی طرح ہے۔