حدیث نمبر: 2371
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ يَقُولُ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} إِنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ میں نے بصرہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز ادا کی، انہوں نے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی ایک آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں سورہ فاتحہ پڑھی اور سورہ بقرہ کی دوسری آیت پڑھی، پھر رکوع کیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو وہ پڑھا کرو۔“
(ب) علی بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سند حسن ہے اور اس میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے اس قول ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ﴾ [سورة المزمل: 20] ”قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو۔“ سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2371
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»