وَإِلَيْهِ مَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کا میلان اسی جانب ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُولَانِ: " الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ " قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ رَأَيٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ دونوں درمیانی نماز سے مراد صبح کی نماز لیتے تھے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی میری رائے ہے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی میری رائے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا عَفَّانُ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ درمیانی نماز فجر کی نماز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ ثنا سَهْلُ بْنُ تَمَّامٍ ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ وَسَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: " صَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَيْنَ يَدَيْهِ لَرَأَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو رجا عطاردی سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور وہ کوفہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی ان کے سامنے ہوتا تو وہ ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو ہماری طرف رخ کر کے فرمایا: یہ ہے وہ نماز جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " هَذِهِ صَلَاةُ الْوُسْطَى الَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] ".
حافظ ثناء اللہ
ابو رجاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمانے لگے: یہ وہ درمیانی نماز ہے جس کے بارے میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے رہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو النَّضْرِ ثنا دَاوُدُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " الصَّلَاةُ الْوُسْطَى الصُّبْحُ " وَرُوِّينَا أَيْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بِمَا احْتَجَّ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ وَمَنْ قَالَ بِهِ احْتَجَّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ درمیانی نماز صبح کی نماز ہے۔
(ب) اسی طرح یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور انہوں نے بھی اس سے وہ دلیل حاصل کی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حاصل کی ہے۔ طاؤس، مجاہد، عکرمہ اور عطا رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
(ب) اسی طرح یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور انہوں نے بھی اس سے وہ دلیل حاصل کی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حاصل کی ہے۔ طاؤس، مجاہد، عکرمہ اور عطا رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ: إِذَا بَلَغَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا للَّهِ قَانِتِينَ " وَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْوُسْطَى غَيْرُ الْعَصْرِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، پھر فرمانے لگیں کہ ”جب تم اس آیت ﴿حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتانا“۔ ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی“۔ جب میں اس مقام پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے لکھوایا: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی بھی اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے“۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٦٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ " قَانِتِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمرو بن رافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے مصحف لکھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: جب اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتانا، نمازیں پابندی سے ادا کرو خصوصاً درمیانی نماز۔ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے مجھ سے یہ لکھوایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ نمازوں پر محافظت کرو اور درمیانی نماز پر اور نماز عصر پر اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو جاؤ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " أَمَرَتْ حَفْصَةُ بِمُصْحَفٍ يُكْتَبُ لَهَا فَقَالَتْ لِلَّذِي يَكْتُبُ: إِذَا أَتَيْتَ عَلَى ذِكْرِ الصَّلَاةِ فَذَرْ مَوْضِعَهَا حَتَّى أُعَلِّمَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَفَعَلَ فَكَتَبَ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " قَالَ نَافِعٌ: فَرَأَيْتُ الْوَاوَ مُعَلَّقَةَ وَهَذَا مُسْنَدٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا مِنْ جِهَةِ نَافِعٍ ثُمَّ أَكَّدَهُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْ رُؤْيَتِهِ وَحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرٍو الْكَاتِبِ مَوْصُولٌ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا فَهُوَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَنَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي زَمَانِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مُصْحَفًا لَهَا فَقَالَتْ لِي: أَيْ بُنِيَّ إِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَأُمْلِيَهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهَا حَمَلْتُ الْوَرَقَةَ وَالدَّوَاةَ حَتَّى جِئْتُهَا فَقَالَتِ: اكْتُبْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کاتب کو اس مصحف کے بارے میں حکم دیا جو ان کے لیے لکھا جا رہا تھا کہ ”جب تو نماز کے ذکر تک پہنچے تو اس کی جگہ خالی چھوڑ دینا، تاکہ میں تجھے وہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا“، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے لکھوایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ ”نماز پر محافظت کرو، درمیانی نماز اور عصر کی نماز پر بھی محافظت کرو۔“ نافع کہتے ہیں: میں نے واؤ کو معلق دیکھا ہے۔
یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگر وہ موقوف ہو تو عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت صحیح ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا: ”اے بیٹے! جب تو اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچے تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں ورق اور قلم دوات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا: ”لکھو: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾۔“
یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگر وہ موقوف ہو تو عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت صحیح ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا: ”اے بیٹے! جب تو اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچے تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں ورق اور قلم دوات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا: ”لکھو: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ فَخَالَفَ رِوَايَةَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا حَيْثُ قَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ وَعُمَرُ لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَحَيْثُ قَالَ: هِيَ ⦗٦٧٩⦘ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَإِنَّمَا هُوَ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ وَقَدْ خُولِفَ إِسْنَادُ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَيْضًا فِي مَتْنِهِ وَالصَّحِيحُ مَا ذَكَرْنَاهُ وَقَدْ رُوِيَ بِوَفَاتِهِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ١٦٥٥ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِكَ وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ بِتَخْصِيصِ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِزِيَادَةِ الْفَضِيلَةِ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سند میں جو عمر بن رافع ہے وہ عمر نہیں عمرو ہے اور یہ بھی فرمایا کہ واقعی یہ عصر کی نماز ہی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ پڑھا۔
قرآن و سنت میں نمازِ فجر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے، اس لیے درمیانی نماز فجر کی نماز ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ پڑھا۔
قرآن و سنت میں نمازِ فجر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے، اس لیے درمیانی نماز فجر کی نماز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨] مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”دن اور رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں“۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو: ﴿وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ [سورة الإسراء: 78]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ ⦗٦٨٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ أُخْرَى " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے عشا کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی، گویا اس نے پوری رات قیام کیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ الْعَلَقِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَانْظُرْ يَا ابْنَ آدَمَ لَا يَطْلُبَنَّكَ اللهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جندب بن سفیان علقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کے ذمہ میں ہے، لہٰذا اے ابن آدم! دیکھ! اللہ اپنے ذمہ میں سے تجھ سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو السَّرِيِّ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ النَّسَائِيُّ، ثنا عَفَّانُ ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبُهُ بِشَيْءٍ يُدْرِكُهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرٍ وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ بِزِيَادَةِ فَضِيلَةِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز ادا کی وہ اللہ کے ذمہ (پناہ) میں ہے، پس اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے ذمہ میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ جس سے کسی چیز کا مطالبہ کرے وہ اس کو نبھا نہ سکے تو اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔“
(ب) کتاب سنت میں صبح اور عصر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔
(ب) کتاب سنت میں صبح اور عصر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ ثنا قَيْسٌ قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ: " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ وَلَا تُضَاهُونَ فِي رَؤْيَتِهِ وَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا " ثُمَّ قَالَ: " {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں موجود تھے، اچانک آپ ﷺ کی نظر چودھویں کے چاند پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو! تم ضرور اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھتے ہو۔ تم اس کو دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے۔“ یا فرمایا: ”شک نہیں کرتے ہو۔ اگر ہو سکے تو تم طلوعِ آفتاب سے پہلے (فجر) اور غروبِ آفتاب سے پہلے (عصر) والی نماز ضرور پڑھو (یعنی تمہیں کوئی چیز ان دو نمازوں سے غافل نہ کرے)۔ ان کو چھوڑ کر کسی کام میں پھنس نہ جاؤ۔“ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ [سورة طه: 130] اور سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کر۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنبأ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ يَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي قَالُوا: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس یکے بعد دیگرے فرشتے اترتے ہیں، کچھ دن کے فرشتے ہوتے ہیں اور کچھ رات کو اترتے ہیں، یہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر جنہوں نے تمہارے ہاں رات گزاری ہوتی ہے وہ رب ذوالجلال کی طرف چلے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں، حالانکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں: میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: ہم جب ان کے پاس گئے تھے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب انھیں چھوڑ کر آئے ہیں تب بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَارُودِ بْنِ دِينَارٍ الْقَطَّانُ ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ثنا هَمَّامٌ ثنا أَبُو جَمْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو دو ٹھنڈی نمازوں (فجر اور عصر) کو ادا کرے گا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا: ثنا هَمَّامٌ ثنا أَبُو جَمْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَنْسِبَا أَبَا بَكْرٍ عَنْ هُدْبَةَ، وَنَسَبَاهُ عَنْ غَيْرِهِ وَهُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَاسْمُ أَبِي مُوسَى عَبْدُ اللهِ بْنُ قَيْسٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرے وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي أَبَا شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيَّ ثنا ⦗٦٨٢⦘ عَفَّانُ ثنا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ أَبُو شُعَيْبٍ: قَالَ بَعْضُ النَّحْوِيِّينَ: غُدْوَةً وَعَشِيًّا، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ هَذَا يُقَالُ إِنَّهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ الشَّيْخُ: الَّذِي رَوَاهُ عَنْهُ أَبُو جَمْرَةَ هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ أَيْضًا قَدْ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ وَهُوَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دو ٹھنڈی نمازوں کو پڑھے گا وہ جنت میں ضرور جائے گا۔“
(ب) بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غُدْوَةً وَعَشِيًّا» سے صبح و شام مراد ہیں۔
(ب) بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غُدْوَةً وَعَشِيًّا» سے صبح و شام مراد ہیں۔
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ثنا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَلِجِ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا " وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عمارہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“ ان کے پاس بصرہ والوں میں سے ایک آدمی تھا، اس نے پوچھا: ”کیا واقعی تم نے نبی ﷺ سے یہ بات سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں! میں نے سنی بھی ہے اور میں اس پر گواہی بھی پیش کرسکتا ہوں۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی جگہ یہ بات فرماتے ہوئے سنا جہاں تو نے سنا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ: " حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ " قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي قَالَ: " حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ " وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ قَالَ الشَّيْخُ: رَحِمَهُ اللهُ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَافِظْ عَلَيْهِنَّ فِي أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَاعْتَذَرَ بَالْأَشْغَالِ الْمُفْضِيَةِ إِلَى تَأْخِيرِهَا عَنْ أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَأَمَرَهُ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ بِتَعْجِيلِهِمَا فِي أَوَائِلِ وَقْتَيْهِمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبداللہ بن فضالہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے دین اسلام کی باتیں سکھائیں۔ ان میں یہ بھی تھا کہ ”پانچوں نمازوں پر محافظت کرو، (یعنی ان کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرو)۔“ میں نے عرض کیا: یہ تو میری مصروفیت کے اوقات ہیں، آپ مجھے کوئی جامع حکم دے دیں جس پر میں کاربند رہوں وہ مجھے کفایت کر جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْعَصْرَيْنِ» (عصرین) نمازوں کی حفاظت کر۔“ یہ لفظ (عصرین) ہماری لغت میں مستعمل نہیں تھا۔ میں نے پوچھا: عصرین سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے کی دو نمازیں۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ ان نمازوں کو ان کے اول وقت میں ادا کرنے پر محافظت کرو، لیکن جب اس نے اپنی مصروفیات کا عذر پیش کیا کہ میں مقررہ وقت پر نہ پڑھ سکوں گا تاخیر ہوجائے گی تو آپ ﷺ نے اسے ان دو نمازوں کے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ ان کو اول وقت میں ادا کرلیا کرو۔ واللہ اعلم وباللہ التوفیق۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ ان نمازوں کو ان کے اول وقت میں ادا کرنے پر محافظت کرو، لیکن جب اس نے اپنی مصروفیات کا عذر پیش کیا کہ میں مقررہ وقت پر نہ پڑھ سکوں گا تاخیر ہوجائے گی تو آپ ﷺ نے اسے ان دو نمازوں کے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ ان کو اول وقت میں ادا کرلیا کرو۔ واللہ اعلم وباللہ التوفیق۔