السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي الصبح باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: " أَمَرَتْ حَفْصَةُ بِمُصْحَفٍ يُكْتَبُ لَهَا فَقَالَتْ لِلَّذِي يَكْتُبُ: إِذَا أَتَيْتَ عَلَى ذِكْرِ الصَّلَاةِ فَذَرْ مَوْضِعَهَا حَتَّى أُعَلِّمَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَفَعَلَ فَكَتَبَ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " قَالَ نَافِعٌ: فَرَأَيْتُ الْوَاوَ مُعَلَّقَةَ وَهَذَا مُسْنَدٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا مِنْ جِهَةِ نَافِعٍ ثُمَّ أَكَّدَهُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْ رُؤْيَتِهِ وَحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرٍو الْكَاتِبِ مَوْصُولٌ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا فَهُوَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَنَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي زَمَانِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مُصْحَفًا لَهَا فَقَالَتْ لِي: أَيْ بُنِيَّ إِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَأُمْلِيَهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهَا حَمَلْتُ الْوَرَقَةَ وَالدَّوَاةَ حَتَّى جِئْتُهَا فَقَالَتِ: اكْتُبْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ".نافع سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کاتب کو اس مصحف کے بارے میں حکم دیا جو ان کے لیے لکھا جا رہا تھا کہ ”جب تو نماز کے ذکر تک پہنچے تو اس کی جگہ خالی چھوڑ دینا، تاکہ میں تجھے وہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے ہوئے سنا“، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے لکھوایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ ”نماز پر محافظت کرو، درمیانی نماز اور عصر کی نماز پر بھی محافظت کرو۔“ نافع کہتے ہیں: میں نے واؤ کو معلق دیکھا ہے۔
یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگر وہ موقوف ہو تو عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت صحیح ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا: ”اے بیٹے! جب تو اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچے تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں ورق اور قلم دوات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا: ”لکھو: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾۔“