السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي الصبح باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ: " حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ " قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا أَشْغَالٌ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي قَالَ: " حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ " وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ قَالَ الشَّيْخُ: رَحِمَهُ اللهُ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ حَافِظْ عَلَيْهِنَّ فِي أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَاعْتَذَرَ بَالْأَشْغَالِ الْمُفْضِيَةِ إِلَى تَأْخِيرِهَا عَنْ أَوَائِلِ أَوْقَاتِهِنَّ فَأَمَرَهُ بِالْمُحَافَظَةِ عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ بِتَعْجِيلِهِمَا فِي أَوَائِلِ وَقْتَيْهِمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) عبداللہ بن فضالہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے دین اسلام کی باتیں سکھائیں۔ ان میں یہ بھی تھا کہ ”پانچوں نمازوں پر محافظت کرو، (یعنی ان کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا کرو)۔“ میں نے عرض کیا: یہ تو میری مصروفیت کے اوقات ہیں، آپ مجھے کوئی جامع حکم دے دیں جس پر میں کاربند رہوں وہ مجھے کفایت کر جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«الْعَصْرَيْنِ» (عصرین) نمازوں کی حفاظت کر۔“ یہ لفظ (عصرین) ہماری لغت میں مستعمل نہیں تھا۔ میں نے پوچھا: عصرین سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے کی دو نمازیں۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ ان نمازوں کو ان کے اول وقت میں ادا کرنے پر محافظت کرو، لیکن جب اس نے اپنی مصروفیات کا عذر پیش کیا کہ میں مقررہ وقت پر نہ پڑھ سکوں گا تاخیر ہوجائے گی تو آپ ﷺ نے اسے ان دو نمازوں کے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ ان کو اول وقت میں ادا کرلیا کرو۔ واللہ اعلم وباللہ التوفیق۔