السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي الصبح باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ فَخَالَفَ رِوَايَةَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا حَيْثُ قَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ وَعُمَرُ لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَحَيْثُ قَالَ: هِيَ ⦗٦٧٩⦘ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَإِنَّمَا هُوَ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ وَقَدْ خُولِفَ إِسْنَادُ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَيْضًا فِي مَتْنِهِ وَالصَّحِيحُ مَا ذَكَرْنَاهُ وَقَدْ رُوِيَ بِوَفَاتِهِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ١٦٥٥ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِكَ وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ بِتَخْصِيصِ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِزِيَادَةِ الْفَضِيلَةِ.محمد بن اسحاق نے سند اور متن دونوں میں زید بن اسلم اور عبیداللہ بن عمر کی روایت کی مخالفت کی ہے: سند میں انہوں نے عمر بن رافع کہا حالانکہ وہ عمرو بن رافع ہے، عمر درست نہیں، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ اور متن میں انہوں نے «هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ» (وہ عصر کی نماز ہے) کہا حالانکہ درست «وَصَلَاةِ الْعَصْرِ» (اور عصر کی نماز) ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے متن میں بھی اختلاف کیا گیا ہے اور صحیح وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ پڑھا۔
قرآن اور پھر سنت میں نمازِ فجر کو خصوصی طور پر زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔