السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي الصبح باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ: إِذَا بَلَغَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا للَّهِ قَانِتِينَ " وَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْوُسْطَى غَيْرُ الْعَصْرِ.(ا) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، پھر فرمانے لگیں کہ ”جب تم اس آیت ﴿حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتانا“۔ ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی“۔ جب میں اس مقام پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے لکھوایا: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی بھی اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے“۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔