أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ ثنا أَبُو غَسَّانَ ثنا زُهَيْرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو الْحَسَنِ الْأَحْوَلُ الْكُوفِيُّ وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نفاس والی عورتیں نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنے نفاس کے بعد چالیس راتیں یا چالیس دن بیٹھتی تھیں اور ہم کلف کے لیے ورس بوٹی اپنے چہروں پر ملتی تھیں۔
ابو ولید نے اسے زہیر سے، انہوں نے عبدالاعلیٰ سے نقل کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
ابو ولید نے اسے زہیر سے، انہوں نے عبدالاعلیٰ سے نقل کیا ہے اور یہ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو بَدْرٍ الْكِنْدِيُّ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكُوفِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَتِ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ " بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ رَوَى لَهُ شُعْبَةُ وَأَبُو سَهْلٍ كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ ثِقَةٌ ⦗٥٠٤⦘ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں نفاس والی عورتیں چالیس دن بیٹھتی تھیں اور ہم ورس اور زعفران اپنے چہروں پر لگاتی تھیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے امام ترمذی سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن عبدالاعلیٰ ثقہ ہے۔ اس سے شعبہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابوسہل کثیر بن زیاد ثقہ ہے، میں اس حدیث کے علاوہ اس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے امام ترمذی سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ انہوں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن عبدالاعلیٰ ثقہ ہے۔ اس سے شعبہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابوسہل کثیر بن زیاد ثقہ ہے، میں اس حدیث کے علاوہ اس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتا۔
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ ثنا عَبْدَانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُسَّةُ الْأَزْدِيَّةُ، قَالَتْ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَأْمُرُ النِّسَاءَ يَقْضِينَ صَلَاةَ الْحَيْضِ فَقَالَتْ: " لَا يَقْضِينَ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ فِي النِّفَاسِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لَا يَأْمُرُهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَضَاءِ صَلَاةِ النِّفَاسِ ".
حافظ ثناء اللہ
مسہ ازدیہ کہتی ہیں کہ میں حج کرنے کے بعد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ حیض کی نمازیں قضا کر دیں۔ انہوں نے کہا: وہ قضا نہیں کریں گی، نبی ﷺ کی بیویوں میں سے کوئی بیوی نفاس میں چالیس راتیں بیٹھتی تھی اور نبی ﷺ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " النُّفَسَاءُ تَنْتَظِرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ نَحْوَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن یا انتظار کریں گی یا اس کی مثل فرمایا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " تَنْتَظِرُ - يَعْنِي النُّفَسَاءَ - سَبْعًا فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَأَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَوَاحِدَةً وَعِشْرِينَ فَإِنْ طَهُرَتْ وَإِلَّا فَأَرْبَعِينَ ثُمَّ تُصَلِّي " وَقَدْ رُوِيَ فِيهَا عَنْ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نفاس والیاں سات (دن) انتظار کریں گی، اگر پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ چودہ (دن)، اگر پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ اکیس (دن)، اگر وہ پاک ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ چالیس (دن انتظار کرے گی) پھر نماز پڑھے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَبِي حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: " تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهَا أَحَادِيثُ مَرْفُوعَةٌ كُلُّهَا سِوَى مَا ذَكَرْنَاهُ ضَعِيفَةٌ وَقَدْ ذَهَبَ إِلَى مَا رُوِّينَا بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نفاس والیاں چالیس دن انتظار کریں گی، پھر غسل کریں گی۔
اس بارے میں مرفوع احادیث بھی مروی ہیں، جو ہم نے ذکر کیا اس کے علاوہ وہ سب ضعیف ہیں۔
اس بارے میں مرفوع احادیث بھی مروی ہیں، جو ہم نے ذکر کیا اس کے علاوہ وہ سب ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا عَبْدِ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ النُّفَسَاءِ كَمْ تَقْعُدُ إِذَا رَأَتِ الدَّمَ قَالَ: " أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ " وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَمْلِ مَا رُوِّينَا فِيهَا عَلَى عَادَتِهِنَّ وَأَنَّ غَيْرَهُنَّ إِنْ رَأَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مَكَثْنَ مَا لَمْ يُجَاوِزْ سِتِّينَ يَوْمًا اعْتِبَارًا بِالْوُجُودِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن محمد بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نفاس والیوں کے متعلق سوال کیا گیا، میں (یہ گفتگو) سن رہا تھا کہ وہ کتنی دیر بیٹھیں گی، جب وہ خون دیکھیں گی؟ انہوں نے کہا: چالیس دن، پھر وہ غسل کریں گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا ⦗٥٠٥⦘ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَالشَّعْبِيِّ، كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا طَالَ بِهَا الدَّمُ تَرَبَّصَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ سِتِّينَ ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء اور شعبی رحمہما اللہ کہتے تھے کہ جب خون (کا دورانیہ) لمبا ہو جائے تو وہ ساٹھ (دن) تک انتظار کریں گی، پھر غسل کریں گی اور نماز پڑھیں گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ ثنا الشَّامَاتِيُّ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ أَحْمَدَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا وَكِيعٌ، نا سُفْيَانُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " تَجْلِسُ النُّفَسَاءُ سِتِّينَ يَوْمًا ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نفاس والیاں ساٹھ دن بیٹھیں گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ ثنا حَمَّادُ عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا رَأَتِ النُّفَسَاءُ أَقَامَتْ خَمْسِينَ لَيْلَةً " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ تَأَوَّلَ مَا رَوَاهُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فِي الْأَرْبَعِينَ عَلَى أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ كَانَ يَذْهَبُ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ إِلَى أَنَّهَا وَإِنْ طَهُرَتْ لَمْ يَغْشَهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى خِلَافِهِ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب نفاس والیاں (اپنا خون) دیکھیں تو پچاس راتیں رک جائیں۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے چالیس دن والی جو روایت نقل کی ہے اس کی تاویل یہ کرتے تھے کہ عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ چالیس دن سے پہلے پاک ہو جائے تو اس کا خاوند اس سے جماع نہیں کرے گا جب تک چالیس دن پورے نہ ہو جائیں۔ اور ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت نقل کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چالیس دن سے کم کے بارے میں ان کا مذہب اس کے خلاف تھا۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے چالیس دن والی جو روایت نقل کی ہے اس کی تاویل یہ کرتے تھے کہ عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ چالیس دن سے پہلے پاک ہو جائے تو اس کا خاوند اس سے جماع نہیں کرے گا جب تک چالیس دن پورے نہ ہو جائیں۔ اور ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت نقل کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ چالیس دن سے کم کے بارے میں ان کا مذہب اس کے خلاف تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ثنا وَكِيعٌ ثنا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ عَنْ عَرْفَجَةَ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ، عَنْهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِلنُّفَسَاءِ إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ إِلَّا أَنْ تُصَلِّيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نفاس والی جب طہر دیکھ لے تو اس کے لیے نماز پڑھنے کے سوا کچھ حلال نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ وَلَقَبُهُ سُلَيْمٌ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَضَى لِلنُّفَسَاءِ سَبْعٌ ثُمَّ رَأَتِ الطُّهْرَ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ " وَهَكَذَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب نفاس والی کے سات دن گزر جائیں، پھر وہ طہر دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ ⦗٥٠٦⦘ زِيَادٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ سُلَيْمٌ: فَلَقِيتُ عَلِيَّ بْنَ عَلِيٍّ فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَصَحُّ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں۔۔۔ یہ زیادہ صحیح ہے لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وُقِّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَرَوَاهُ الْعَزْرَمِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بِأَسَانِيدَ لَهُ، عَنْ مُسَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَرَوَاهُ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدٌ الْعَمِّيُّ وَسَلَامُ بْنُ سَلْمٍ الْمَدَائِنِيُّ وَالْعَزْرَمِيُّ وَالْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ كُلُّهُمْ ضُعَفَاءُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفاس والیوں کا وقت چالیس راتیں ہیں، ہاں اگر اس سے پہلے طہر دیکھ لے۔“
زید العمی، سلام بن سلم مدائنی، عرزمی اور علاء بن کثیر دمشقی سب ضعیف ہیں۔
زید العمی، سلام بن سلم مدائنی، عرزمی اور علاء بن کثیر دمشقی سب ضعیف ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْفَهَانِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ سَهْمٌ مَوْلَى ابْنِ سُلَيْمٍ: إِنَّ مَوْلَاتَهُ أُمَّ يُوسُفَ وَلَدَتْ بِمَكَّةَ فَلَمْ تَرَ دَمًا فَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: " أَنْتِ امْرَأَةٌ طَهَّرَكِ اللهُ فَلَمَّا نَفَرَتْ رَأَتْ " قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَهُ لَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سلیم کے آزاد کردہ غلام سہم کہتے ہیں کہ ان کی مالکن ام یوسف نے مکہ میں بچہ جنا، اس نے خون نہیں دیکھا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملی تو انہوں نے فرمایا: تو ایسی عورت ہے کہ اللہ نے تجھ کو پاک کیا ہے، جب وہ چلی گئی تو اس نے (خون) دیکھا۔