کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى السُّوسِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يَقُولُ: كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَمَعَنْا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ فَذَكَرْنَا الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ: ثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " جَعَلَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنَا " يَعْنِي الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ نے تین مقرر کیے ہیں، اگر ہم زیادہ (مدت) طلب کرتے تو آپ ﷺ زیادہ کر دیتے یعنی مسافر کے لیے موزوں پر مسح کرنے کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا " وَايْمُ اللهِ لَوْ مَضَى السَّائِلُ فِي مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنَا وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ دُونَ مَسْحِ الْمُقِيمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ: ”جب ہم مقیم ہوں ہم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کریں، جب مسافر ہوں تو تین دن اور تین راتیں“ اور اللہ کی قسم! اگر سائل مسلسل پوچھتا رہتا تو آپ ﷺ پانچ دن مقرر کر دیتے۔ (ب) امام ثوری رحمہ اللہ والی روایت میں ہے کہ اگر میں زیادہ مدت طلب کرتا تو آپ ﷺ کا طغری زیادہ کرتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ " قَالَ: وَرَأَيْنَا أَنَّهُ لَوِ اسْتَزَادَهُ لَزَادَهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فَأَدْخَلَ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ وَبَيْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ وَتَرَكَ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ وَبَيْنَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيَّ وَلَمْ يَذْكُرْ: وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دن اور تین راتیں“۔ صحابہ کہتے ہیں: ہم نے سوچا کہ اگر وہ زیادہ (مدت) طلب کرتا تو آپ ﷺ زیادہ کر دیتے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ⦗٤١٨⦘ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَيَالِيهِنَّ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ سَلَمَةَ فَخَالَفَ شُعْبَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسافر تین دن مسح کرے گا۔“ شعبہ کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور ان کی راتیں۔“
أَخْبَرَنَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْخُزَاعِيُّ، أنا أَبُو شُعَيْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَلَاثًا " قَالَ: وَقَالَ الْحَارِثُ: مَا أَخْلَعُ خُفِّي حَتَّى آتِي فِرَاشِي وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ فَخَالَفَهُمْ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مسافر تین دن مسح کرے گا۔“ حارث کہتے ہیں: میں اپنے موزے نہیں اتاروں گا جب تک بستر پر نہ آ جاؤں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثًا " وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ دُونَ الزِّيَادَةِ الَّتِي رَوَاهَا مَنْصُورٌ وَسَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مسافر موزوں پر تین دن مسح کرے گا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: " لِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةٌ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ وَأَبُو مِعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عِنْدِي حَدِيثُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ سَمَاعٌ مِنْ خُزَيْمَةَ وَكَانَ شُعْبَةُ يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدُ اللهِ الْجَدَلِيُّ حَدِيثَ ⦗٤١٩⦘ الْمَسْحِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقِصَّةُ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ مَا قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ مَضَتْ فِي أَوْلِ الْبَابِ وَرَوَاهُ ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ الْحَارِثِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے موزوں پر مسح سے متعلق فرمایا: ”مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے گا۔“
(ب) امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت جو موزوں کے متعلق ہے صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ ابوعبداللہ جدلی کا سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے اور شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ابوعبداللہ جدلی سے حدیثِ مسح کا سماع ثابت نہیں۔ (ج) شیخ کہتے ہیں: زائدہ کا قصہ جو منصور سے منقول ہے وہ شعبہ کی روایت کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ یہ شروع باب میں گزر چکا ہے۔ (د) اس روایت کو ذواد بن علبہ حارثی نے بیان کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ وہ مطرف عن شعبی رحمہ اللہ عن ابی عبداللہ جدلی بیان کرتا ہے۔
(ب) سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مسافر تین دن مسح کرے گا۔“ فرماتے ہیں: اگر ہم زیادہ طلب کرتے تو آپ ﷺ زیادہ کر دیتے۔
(ب) امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت جو موزوں کے متعلق ہے صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ ابوعبداللہ جدلی کا سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے اور شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ابوعبداللہ جدلی سے حدیثِ مسح کا سماع ثابت نہیں۔ (ج) شیخ کہتے ہیں: زائدہ کا قصہ جو منصور سے منقول ہے وہ شعبہ کی روایت کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ یہ شروع باب میں گزر چکا ہے۔ (د) اس روایت کو ذواد بن علبہ حارثی نے بیان کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ وہ مطرف عن شعبی رحمہ اللہ عن ابی عبداللہ جدلی بیان کرتا ہے۔
(ب) سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مسافر تین دن مسح کرے گا۔“ فرماتے ہیں: اگر ہم زیادہ طلب کرتے تو آپ ﷺ زیادہ کر دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْخُزَاعِيُّ، أنا أَبُو شُعَيْبٍ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ، ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، نا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ، عَنْ عُبَادَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عُمَارَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ " قُلْتُ: يَوْمًا؟ قَالَ: " وَيَوْمَيْنِ " قُلْتُ: وَيَوْمَيْنِ؟ قَالَ: " وَثَلَاثَةٌ " قُلْتُ: وَثَلَاثَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ مَا بَدَا لَكَ " قَالَ يَعْقُوبُ: أُبَيُّ بْنُ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَيُقَالُ ابْنُ عِمَارَةَ بِكَسْرِ الْعَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ دُونَ ذِكْرِ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ فِي إِسْنَادِهِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ: نَعَمْ وَمَا شِئْتَ..
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر نماز پڑھی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بھی موزوں پر مسح کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: ایک دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دن۔“ میں نے کہا: دو دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دن۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تین دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو تیرے لیے آسان ہو۔“
(ب) یحییٰ بن ایوب، عبادہ بن نسی کا ذکر کیے بغیر اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور جو تو چاہے۔“
(ب) یحییٰ بن ایوب، عبادہ بن نسی کا ذکر کیے بغیر اسی سند سے بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں اور جو تو چاہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ. وَقَدْ قِيلَ عَنْ عَمْرٍو دُونَ ذِكْرِ أَيُّوبَ فِي إِسْنَادِهِ وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ كَمَا..
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ ⦗٤٢٠⦘ بِالْكُوفَةِ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ مَوْلَى خُزَاعَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، كَذَا قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: بِالْكَسْرِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عِمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ " نَعَمْ " قَالَ: يَوْمًا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَيَوْمَيْنِ؟ قَالَ: " وَيَوْمَيْنِ قَالَ: وَثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ " حَتَّى عَدَّ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ مَا بَدَا لَكَ " هَكَذَا فِي رِوَايَتِنَا وَقِيلَ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ هَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: قَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ لَا يَثْبُتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلَافًا كَثِيرًا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابو عبید نے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلتین کی عمارت والے گھر میں نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ایک دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پھر پوچھا: دو دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو دن۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تین دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ یہاں تک کہ سات شمار کیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو تیرے لیے ظاہر ہو۔“
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ حدیث قوی نہیں۔ (ج) علی بن عمر کہتے ہیں کہ یہ سند ثابت نہیں، اس میں راوی یحییٰ بن ایوب پر شدید اختلاف ہے۔ (د) عبدالرحمن، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن یہ سارے راوی مجہول ہیں۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ حدیث قوی نہیں۔ (ج) علی بن عمر کہتے ہیں کہ یہ سند ثابت نہیں، اس میں راوی یحییٰ بن ایوب پر شدید اختلاف ہے۔ (د) عبدالرحمن، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن یہ سارے راوی مجہول ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشَرَانَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا وَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا ثُمَّ لَا يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی وضو کرے اور اس نے موزے پہنے ہوں تو وہ ان پر مسح کرے، پھر اگر چاہے تو ان دونوں کو نہ اتارے، اگر ناپاک ہو تو اتار دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا وَلَا يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زبید بن صلت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اس نے موزے پہنے ہوئے ہوں تو وہ ان پر مسح کرے اور ان میں نماز پڑھے اور اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے مگر جنابت کی حالت میں (اتار دے)۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: وَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَسَدَ بْنَ مُوسَى قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ تَابَعَهُ فِي الْحَدِيثِ الْمُسْنَدِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ وَلَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ حَمَّادٍ وَلَيْسَ بِمَشْهُورٍ وَاللهُ أَعْلَمُ ⦗٤٢١⦘ فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَالرِّوَايَةُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ مَشْهُورَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ (ب) ابن صاعد کہتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اس حدیث کو اسد بن موسیٰ نے بیان کیا ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں: اس کی متابعت عبدالغفار بن داؤد حرانی نے کی ہے اور اہل بصرہ کے ہاں حماد سے، لیکن وہ مشہور نہیں۔
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: " مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِي رِجْلَيْكَ؟ " قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ " أَصَبْتَ السُّنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کی طرف چلا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: تو نے اپنے پاؤں میں موزے کب پہنے ہیں؟ میں نے کہا: جمعہ کے دن۔ انہوں نے کہا: کیا تو نے ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: تو نے سنت پر عمل کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَلَوِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يُخْبِرُ أنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِفَتْحٍ مِنَ الشَّامِ وَعَلَيَّ خُفَّانِ لِي جُرْمُقَانِيَّانِ غَلِيظَانِ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ فَقَالَ: كَمْ لَكَ مُنْذُ لَمْ تَنْزِعْهُمَا؟ قَالَ: قُلْتُ: لَبِسْتُهُمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثَمَانٍ قَالَ: " أَصَبْتَ " وَرَوَاهُ مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَقَالَ: فِيهِ أَصَبْتَ السُّنَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس شام کی فتح کی خبر لے کر آیا تو میں نے موزے اور موٹے جو «الْمُوقُ» پہنے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا: ”کتنی مدت سے تو نے انہیں نہیں اتارا؟“ میں نے کہا: ”میں نے جمعہ کے دن سے پہنے ہوئے ہیں اور جمعہ کا دن آٹھواں دن ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو نے (سنت کو) پا لیا ہے۔“
(ب) یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے اور اس روایت میں ہے: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے۔“
(ب) یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے اور اس روایت میں ہے: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، مِثْلَهُ، وَقَالَ: أَصَبْتُ السُّنَّةَ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ التَّوْقِيتَ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَجَعَ إِلَيْهِ حِينَ جَاءَهُ التَّثَبُّتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْقِيتِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ الْمَشْهُورَةَ أَوْلَى وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُوَقِّتُ فِيهِ وَقْتًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسی طرح نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے۔“
(ب) ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مسح کی مدت بیان کی ہے۔ ان کا مؤقف وہی ہے جو سنت سے ثابت ہے اور ان کا قول سنت مشہورہ سے موافق ہونا اولیٰ ہے۔ (ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔
(ب) ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مسح کی مدت بیان کی ہے۔ ان کا مؤقف وہی ہے جو سنت سے ثابت ہے اور ان کا قول سنت مشہورہ سے موافق ہونا اولیٰ ہے۔ (ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ لَا يُوَقِّتُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَقْتًا وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ التَّوْقِيتَ وَقَوْلُهُمْ يُوَافِقُ السُّنَّةَ الَّتِي هِيَ أَشْهَرُ وَأَكْثَرُ وَالْأَصْلُ وُجُوبُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فَالْمَصِيرُ إِلَيْهِ أَوْلَى وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ: رَجَعَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ إِلَى التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عِنْدَنَا بِبَغْدَادَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ موزوں پر مسح کی مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔ (ب) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا طغری سے ہم نے روایت کیا ہے کہ ان سے مسح کی مدت ثابت ہے اور ان کا قول سنتِ مشہورہ کے موافق ہے جو کثرت سے مروی ہے۔ (ج) اصلاً تو پاؤں کا دھونا واجب ہے اور یہی اولیٰ ہے۔ واللہ اعلم۔ (د) ابوعلی زعفرانی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بغداد میں امام شافعی رحمہ اللہ نے مسح کی مدتِ مقررہ کی طرف رجوع کر لیا ہے۔