السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في ترك التوقيت باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَلَوِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يُخْبِرُ أنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِفَتْحٍ مِنَ الشَّامِ وَعَلَيَّ خُفَّانِ لِي جُرْمُقَانِيَّانِ غَلِيظَانِ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا عُمَرُ فَقَالَ: كَمْ لَكَ مُنْذُ لَمْ تَنْزِعْهُمَا؟ قَالَ: قُلْتُ: لَبِسْتُهُمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ثَمَانٍ قَالَ: " أَصَبْتَ " وَرَوَاهُ مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ وَقَالَ: فِيهِ أَصَبْتَ السُّنَّةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس شام کی فتح کی خبر لے کر آیا تو میں نے موزے اور موٹے جو «الْمُوقُ» پہنے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا: ”کتنی مدت سے تو نے انہیں نہیں اتارا؟“ میں نے کہا: ”میں نے جمعہ کے دن سے پہنے ہوئے ہیں اور جمعہ کا دن آٹھواں دن ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو نے (سنت کو) پا لیا ہے۔“
(ب) یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے اور اس روایت میں ہے: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے۔“