السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في ترك التوقيت باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1330
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا وَلَا يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
زبید بن صلت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اس نے موزے پہنے ہوئے ہوں تو وہ ان پر مسح کرے اور ان میں نماز پڑھے اور اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے مگر جنابت کی حالت میں (اتار دے)۔