السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في ترك التوقيت باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1332
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: " مَتَى أَوْلَجْتَ خُفَّيْكَ فِي رِجْلَيْكَ؟ " قُلْتُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: فَهَلْ نَزَعْتَهُمَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ " أَصَبْتَ السُّنَّةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن شام سے مدینہ کی طرف چلا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: تو نے اپنے پاؤں میں موزے کب پہنے ہیں؟ میں نے کہا: جمعہ کے دن۔ انہوں نے کہا: کیا تو نے ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: تو نے سنت پر عمل کیا۔