کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: باوضو حالت میں موزے پہننے والے کے لیے مسح کی رخصت کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ: " مَعَكَ مَاءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَقَالَ: " دَعْهُمَا فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَكَرِيَّا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد (سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ اپنی سواری سے اترے، پھر آپ ﷺ چلے اور رات کی سیاہی میں مجھ سے چھپ گئے، پھر تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ ﷺ پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے ہاتھ اور چہرہ دھویا، آپ ﷺ پر اونی جبہ تھا، آپ ﷺ اپنے بازوؤں کو اس سے نہ نکال سکے، پھر ان کو اپنے جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں جھکا تاکہ آپ ﷺ کے موزے اتاروں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑو، میں نے باوضو پہنے تھے“، پھر آپ ﷺ نے ان پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1336
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 203»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقُلْتُ: أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " إِنِّي قَدْ أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ لَمْ أُجْنِبْ بَعْدُ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں، اس میں ہے کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ ﷺ کے موزے اتار دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے باوضو پہنے تھے، اس کے بعد میں جنبی نہیں ہوا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ: " تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ " فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِيَ مَاءٌ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ فَضَاقَ كُمُّهَا فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْكَ أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ قَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) حمزہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! تو پیچھے رہ، اور لوگوں سے تم چلتے رہو۔“ میرے پاس پانی تھا، رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے تو میں نے آپ ﷺ پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے ہاتھ دھونا شروع ہوئے، آپ ﷺ پر رومی جبہ تھا اور اس کی آستین تنگ تھی، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ نیچے سے نکالے، انہیں دھویا اور سر پر مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح کیا۔
(ب) عروہ بن مغیرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ باوضو پہنے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه النسائي 125»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ⦗٤٢٣⦘ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ، ثنا الْمُهَاجِرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”مسافر کو تین دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات، جب باوضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1339
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا بُنْدَارٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ بَشَّارٍ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا الْمُهَاجِرُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهَا وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا " وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَأَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ شَكَّ فِي قَوْلِهِ: إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَهُوَ فِي الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”مسافر کو تین دن اور تین راتیں رخصت دی اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات جب باوضو موزے پہنے ہوں تاکہ ان پر مسح کریں۔“ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے عبدالوہاب سے نقل کیا ہے، لیکن ربیع نے اس قول میں شک کیا ہے، یعنی: جب باوضو موزے پہنے ہوں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول حدیث کے الفاظ ہی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1340
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ " قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلَا غَائِطٍ وَلَا نَوْمٍ وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: تجھے کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص بھی علم کی تلاش میں اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: میں آپ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھنے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں اس لشکر میں تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم موزے طہارت کی حالت میں پہنیں تو ان پر مسح کریں، جب سفر میں ہوں تو تین دن اور جب مقیم ہوں تو ایک رات، اور پیشاب، قضائے حاجت اور نیند کی وجہ سے انہیں نہ اتاریں، اور انہیں صرف جنابت کی وجہ سے اتاریں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے، وہ بند نہیں ہوگا جب تک سورج اس طرف سے طلوع نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1341
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الشَّامَاتِيُّ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا أَبُو رَوْقٍ، ثنا أَبُو الْغَرِيفِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ وَقَالَ: " لِيَمْسَحْ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلْيَمْسَحِ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: ”تم موزوں پر تین دن اور تین راتیں مسح کرو اگر مسافر ہو اور باوضو پہنے ہوں اور مقیم ایک دن اور ایک رات مسح کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1342
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٢٤⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يُسَافَرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ وَثُلُوجٍ كَثِيرَةٍ فَمَا تَرَى فِي الْخُفَّيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَقَدْمَاهُ طَاهِرَتَانِ " تَفَرَّدَ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى.
حافظ ثناء اللہ
شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح سے متعلق سوال کرنے آیا تو انہوں نے فرمایا: تو علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کرتے رہتے تھے۔ میں ان کے پاس آیا، کہا: ہم ٹھنڈی اور بہت زیادہ برف والی زمین میں ہوتے ہیں، آپ کا موزوں پر مسح کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، یہ اس وقت موزوں پر مسح کریں گے جب انہیں باوضو پہنا ہو۔“
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اس روایت کو بیان کرنے میں منفرد ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1343
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا وَرِجْلَاهُ فِي الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب ہم میں سے کوئی وضو کرے اور اس کے پاؤں موزوں میں ہوں (تو کیا وہ مسح کرے گا)؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جب وہ دونوں موزے باوضو پہنے ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»