حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا الثَّوْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: عَلَيْكِ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافَرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْسَحَ ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا ".
حافظ ثناء اللہ
شریح بن ہانی سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس جا، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے، راوی کہتا ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ”جب ہم مسافر ہوں تو تین دن مسح کریں اور جب مقیم ہوں تو ایک دن اور ایک رات۔“
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: " جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ وَلَيْلَةً وَيَوْمًا لِلْمُقِيمِ " وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق رحمہ اللہ نے ہمیں خبر دی جو پچھلی روایت کی طرح ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”تین دن اور تین راتیں مسافر اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لیے مقرر کی ہے۔“ (ب) سفیان رحمہ اللہ جب عمرو رحمہ اللہ کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔
حدیث نمبر: 1305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " كُنَّا نَمْسَحُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَتْ: ايتِ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَذَكَرَهُ وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شریح بن ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوال کر، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے زمانے میں سفر میں تین دن اور تین راتیں اور اقامت کی حالت میں ایک دن اور ایک رات مسح کرتے تھے۔ (ب) ابو معاویہ کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا وہ اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِجْشَرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ، ثنا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں ”مسافر کو تین دن اور تین راتیں اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرنے“ کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1307
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ ⦗٤١٥⦘ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
ہشیم بن بشیر رحمہ اللہ نے اس کو اسی طرح بیان کیا ہے۔ (ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث نمبر: 1308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ " وَكَانَ أَبِي يَنْزِعُ خُفَّيْهِ وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن ابوبکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے موزوں پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسافر تین دن اور تین راتیں اور مقیم ایک دن اور ایک رات مسح کرے گا۔“ اور میرے والد موزے اتار کر اپنے پاؤں دھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 1309
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْهُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ غَلَطًا مِنْهُ أَوْ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَبْدُ الْوَهَّابِ رَوَاهُ عَلَى الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ مَحْفُوظَةً.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن علی بن عفان نے اسی طرح ہی بیان کیا ہے۔ اس حدیث کو ایک کثیر تعداد نے عبدالوہاب ثقفی عن مہاجر عن ابو مخلد بیان کیا ہے۔ زید بن حباب نے خالد حذاء سے روایت کیا ہے۔ ان سے (روایت کرنا) غلط ہے یا حسن بن علی سے۔ ممکن ہے کہ عبدالوہاب نے دونوں سے اکٹھی روایت کی ہو، جماعت کی روایت کا محفوظ ہونا اولیٰ ہے۔
حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: أَبْتَغِي الْعِلْمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضَاءً بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ " كَانَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَوْمٍ " وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ وَزَادَ فِيهِ مَسْحَ الْمُقِيمُ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ قُلْتُ: وَأَيُّ حَدِيثٍ عِنْدَكَ أَصَحُّ فِي التَّوْقِيتُ فِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ حَسَنٌ، قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيٍّ أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ عِنْدَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ آپ کس غرض سے آئے؟ میں نے کہا: میں علم کی تلاش میں آیا ہوں، انھوں نے کہا: ”فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، اس کی رضا مندی کے لیے جو علم حاصل کرتا ہے“۔ میں نے کہا: قضائے حاجت اور پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں بات کھٹک رہی ہے اور آپ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں، میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے سوال کروں کہ آپ نے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب ہم سفر میں ہوں یا فرمایا مسافر ہوں تو تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں، مگر جنابت کے وقت اتار دیں اور قضائے حاجت اور نیند سے نہ اتاریں“۔
(ب) عاصم رحمہ اللہ والی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ مقیم کے مسح کی مدت۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک موزوں پر مسح کی مدت کی تعیین کے متعلق کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث حسن ہے۔ شیخ کہتے ہیں: شریح بن ہانی رحمہ اللہ کی روایت جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس باب میں نقل کی گئی ہے وہ امام مسلم رحمہ اللہ کے ہاں زیادہ صحیح ہے۔
(ب) عاصم رحمہ اللہ والی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ مقیم کے مسح کی مدت۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ کے نزدیک موزوں پر مسح کی مدت کی تعیین کے متعلق کون سی روایت زیادہ صحیح ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث حسن ہے۔ شیخ کہتے ہیں: شریح بن ہانی رحمہ اللہ کی روایت جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس باب میں نقل کی گئی ہے وہ امام مسلم رحمہ اللہ کے ہاں زیادہ صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَنْ أَبِي رَوْقٍ عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ الْهَمْدَانِيِّ ثنا أَبُو الْغَرِيفِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ⦗٤١٦⦘ قَالَ: " فَلْيَمْسَحْ أَحَدُكُمْ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا كَانَ مُسَافِرًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَإِذَا كَانَ مُقِيمًا فَيَوْمٌ وَلَيْلَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا۔۔۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسافر ہو تو وہ موزوں پر تین دن اور تین راتیں مسح کرے اور جب مقیم ہو تو ایک دن اور ایک رات (مسح کرے)۔“
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کے متعلق فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن ہے۔“
حدیث نمبر: 1313
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ نُبَاتَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: " الْمَسْحُ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں۔
حدیث نمبر: 1314
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: " يَمْسَحُ الرَّجُلُ عَلَى خُفَّيْهِ إِلَى سَاعَتِهَا مِنْ يَوْمِهَا وَلَيْلَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”آدمی اپنے موزوں پر ایک دن اور ایک رات مسح کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1315
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ لِلْمُقِيمِ " قَالَ الْحَارِثُ: فَمَا أَنْزِعُ خُفِّي حَتَّى آتِيَ فِرَاشِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن ہے۔ حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اپنے موزے نہیں اتاروں گا جب تک اپنے بستر پر نہ آ جاؤں۔
حدیث نمبر: 1316
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمْ يَنْزِعِ الْخُفَّ ثَلَاثًا، وَيَمْسَحُ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی طرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے تین دن موزے نہیں اتارے بلکہ ان پر مسح کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " يَوْمٌ لِلْمُقِيمِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھو، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مقیم کے لیے ایک دن اور مسافر کے لیے تین دن ہیں۔
حدیث نمبر: 1318
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: " ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن سلمہ ہذلی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے متعلق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔