کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والوں کو نہیں پتہ کہ وہ کب اچانک ظاہر ہو جائے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما كان ليلةُ أُسرِيَ برسول الله ﷺ لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى ﵈، فبَدؤوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علمٌ، فردُّوا الحديثَ إلى عيسى فقال: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دونَ وَجْبتها، فأما وجبتُها فلا يعلمُها إِلَّا اللهُ ﷿ فذكر من خروج الدجال - فأَهبِطُ فأقتلُه، فيَرجعُ الناسُ إلى بلادهم، فيَستقبلُهم (1) يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلون، لا يمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه، ولا بشيءٍ إلا أفسَدوه، فيجأَرون إليَّ، فأدعُو الله فيرسلُ السماءَ بالماء فيَحمِلُهم فيَقذفُ أجسامَهم في البحر، ثم تُنسَفُ الجبال، وتُمَدُّ الأرضُ مدَّ الأَديم، وعَهِدَ اللهُ إِليَّ أنه إذا كان ذلك [فإنَّ] الساعةَ من الناس كالحامل المُتِمِّ لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بوِلادِها، أليلًا أم نهارًا. قال العوَّام: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿، ثم قرأ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: 95 - 96] (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی، آپ ﷺ کی ملاقات ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، پس انہوں نے قیامت کے متعلق گفتگو کا آغاز کیا اور ابراہیم علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس اس (کے وقت) کا کوئی علم نہ تھا، پھر انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی اس کا کوئی علم نہ تھا، پھر معاملہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کے علاوہ اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے متعلق مجھے خبر دی ہے، جہاں تک اس کے برپا ہونے کے عین وقت کا تعلق ہے تو اسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا“، پھر انہوں نے دجال کے خروج کا ذکر کیا اور فرمایا: ”پس میں (آسمان سے) اتروں گا اور اسے قتل کر دوں گا، پھر لوگ اپنے ملکوں کی طرف لوٹ جائیں گے تو ان کا سامنا یاجوج و ماجوج سے ہوگا جو کہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے فاسد کر دیں گے، پس لوگ (پریشان ہو کر) میرے پاس فریاد کریں گے، تو میں اللہ سے دعا کروں گا اور وہ آسمان سے پانی برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اور اللہ نے مجھ سے یہ عہد فرمایا ہے کہ جب یہ سب ہو جائے گا تو قیامت لوگوں کے لیے اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جس کے وضع حمل کا وقت پورا ہو چکا ہو اور اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ وہ اچانک کب بچے کو جنم دے گی، رات کے وقت یا دن کے وقت۔“ راوی عوام کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں پائی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔“ [سورة الأنبياء: 96 - 97]
أخبرنا أبو عثمان بن أحمد بن السَّماك الزاهد ببغداد، حدثنا حَنبَل بن إسحاق بن حنبل، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُمَيد، عن أنس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "الأَمَارَاتُ خَرَزاتٌ منظوماتٌ بسِلْك، فإذا انقَطَع السِّلكُ تَبعَ بعضَه" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(قیامت کی) نشانیاں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہیں، پس جب وہ دھاگا ٹوٹ جائے گا تو وہ ایک دوسرے کے پیچھے (تیزی سے) ظاہر ہونے لگیں گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الطيّب محمد بن الحسن الحِيري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: خرج حُذَيفةُ بظَهْر الكوفة ومعه رجلٌ، فالْتفَتَ إلى جانب الفُرات، فقال لصاحبه: كيف أنتم يومَ تراهم يَخرُجون أو يُخرَجون منها لا يَذُوقون منها قطْرةً؟! قال رجل: وتظنُّ ذاك يا أبا عبد الله؟! قال: ما أظنُّه، ولكن أَعلمُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کوفہ کے باہر نکلے اور ان کے ساتھ ایک شخص تھا، انہوں نے فرات کی جانب دیکھا اور اپنے ساتھی سے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم انہیں دیکھو گے کہ وہ وہاں سے نکل رہے ہوں گے یا نکالے جا رہے ہوں گے اور اس (فرات) کے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں چکیں گے؟“ ایک شخص نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کیا آپ کا ایسا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں بلکہ میں یہ بات (یقین سے) جانتا ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم قالا: حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعت أبا البَخْتَري يحدِّث عن أبي ثَوْر قال: كنت جالسًا مع حُذيفة وأبي مسعود حيث ردَّ أهلُ الكوفة سعيدَ بن العاص يومَ الجَرَعة، فقال أبو مسعود: ما كنت أظنُّ أن يَرجِعَ ولم يُهرِقُ فيها دمًا، فقال حذيفة: لكني والله علمتُ أنا سنرجعُ على عَقِبها ولم يُهرَقْ فيها محِجمةُ دم، وما علمتُ من ذاك شيئًا إلَّا شيئًا (2) علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ، أنَّ الرجل يصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا ما معه من دينه شيءٌ، ويمسي مؤمنًا ويصبح وما معه من دينه شيءٌ، يقاتل في فتنة اليوم ويقتلُه الله ﷿ غدًا، يُنكَّس قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: استُه (3) (4).
حافظ طلحہ بابر
ابو ثور سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس وقت بیٹھا ہوا تھا جب اہل کوفہ نے یومِ جرعہ کے موقع پر سعید بن عاص کو واپس لوٹا دیا تھا، تب ابو مسعود نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ وہ (سعید) خون بہائے بغیر واپس چلا جائے گا، اس پر حذیفہ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا تھا کہ ہم اسی طرح واپس ہو جائیں گے اور اس معاملے میں ایک پچھنے کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا، اور مجھے اس بارے میں کسی چیز کا علم نہیں تھا سوائے اس کے جو میں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں سیکھا تھا کہ: ”آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو اس حال میں کرے گا کہ وہ کافر ہو چکا ہوگا اور اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہیں ہوگا، اور وہ شام کو مومن ہوگا اور صبح اس حال میں کرے گا کہ اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہ ہوگا، وہ آج کے فتنے میں لڑے گا اور اللہ عزوجل اسے کل ہلاک کر دے گا، اس کا دل الٹ دیا جائے گا اور اس کا نچلا حصہ اوپر آ جائے گا“، میں نے پوچھا: کیا اس کا نچلا حصہ؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں اس کی پیٹھ (یعنی وہ ذلیل و خوار ہو جائے گا)۔“
حدثنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن (1) أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن عطيَّة، عن ابن عمر في هذه الآية: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [النمل: 82] قال: إذا لم يَأمُروا بالمعروف، ولم يَنهَوْا عن المنكَر (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [سورة النمل: 82] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(یہ اس وقت ہوگا) جب لوگ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے نہیں روکیں گے۔“