حدیث نمبر: 8855
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم قالا: حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعت أبا البَخْتَري يحدِّث عن أبي ثَوْر قال: كنت جالسًا مع حُذيفة وأبي مسعود حيث ردَّ أهلُ الكوفة سعيدَ بن العاص يومَ الجَرَعة، فقال أبو مسعود: ما كنت أظنُّ أن يَرجِعَ ولم يُهرِقُ فيها دمًا، فقال حذيفة: لكني والله علمتُ أنا سنرجعُ على عَقِبها ولم يُهرَقْ فيها محِجمةُ دم، وما علمتُ من ذاك شيئًا إلَّا شيئًا (2) علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ، أنَّ الرجل يصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا ما معه من دينه شيءٌ، ويمسي مؤمنًا ويصبح وما معه من دينه شيءٌ، يقاتل في فتنة اليوم ويقتلُه الله ﷿ غدًا، يُنكَّس قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: استُه (3) (4).
حافظ طلحہ بابر

ابو ثور سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس وقت بیٹھا ہوا تھا جب اہل کوفہ نے یومِ جرعہ کے موقع پر سعید بن عاص کو واپس لوٹا دیا تھا، تب ابو مسعود نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ وہ (سعید) خون بہائے بغیر واپس چلا جائے گا، اس پر حذیفہ نے فرمایا: لیکن اللہ کی قسم! میں جانتا تھا کہ ہم اسی طرح واپس ہو جائیں گے اور اس معاملے میں ایک پچھنے کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا، اور مجھے اس بارے میں کسی چیز کا علم نہیں تھا سوائے اس کے جو میں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں سیکھا تھا کہ: ”آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو اس حال میں کرے گا کہ وہ کافر ہو چکا ہوگا اور اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہیں ہوگا، اور وہ شام کو مومن ہوگا اور صبح اس حال میں کرے گا کہ اس کے پاس اس کے دین میں سے کچھ نہ ہوگا، وہ آج کے فتنے میں لڑے گا اور اللہ عزوجل اسے کل ہلاک کر دے گا، اس کا دل الٹ دیا جائے گا اور اس کا نچلا حصہ اوپر آ جائے گا“، میں نے پوچھا: کیا اس کا نچلا حصہ؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں اس کی پیٹھ (یعنی وہ ذلیل و خوار ہو جائے گا)۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8855
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8855] [ترقيم الشركة 8745]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: شيء، والجادة ما أثبتنا.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ ’شیء‘ ہے، جبکہ جو ہم نے (متن میں) درج کیا ہے وہی معیاری طریقہ ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: نسيته. والتصويب ممّا سلف عند المصنف برقم (2701).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’نسیتہ‘ بن گیا ہے۔ اس کی تصحیح مصنف (حاکم) کی سابقہ روایت نمبر (2701) سے کی گئی ہے۔
(4) إسناده حسن. وقد سلف برقم (2701) من طريق آدم بن أبي إياس عن شعبة.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (2701) پر آدم بن ابی ایاس عن شعبہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8855 سے ماخوذ ہے۔