حدیث نمبر: 8852
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما كان ليلةُ أُسرِيَ برسول الله ﷺ لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى ﵈، فبَدؤوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علمٌ، فردُّوا الحديثَ إلى عيسى فقال: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دونَ وَجْبتها، فأما وجبتُها فلا يعلمُها إِلَّا اللهُ ﷿ فذكر من خروج الدجال - فأَهبِطُ فأقتلُه، فيَرجعُ الناسُ إلى بلادهم، فيَستقبلُهم (1) يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلون، لا يمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه، ولا بشيءٍ إلا أفسَدوه، فيجأَرون إليَّ، فأدعُو الله فيرسلُ السماءَ بالماء فيَحمِلُهم فيَقذفُ أجسامَهم في البحر، ثم تُنسَفُ الجبال، وتُمَدُّ الأرضُ مدَّ الأَديم، وعَهِدَ اللهُ إِليَّ أنه إذا كان ذلك [فإنَّ] الساعةَ من الناس كالحامل المُتِمِّ لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بوِلادِها، أليلًا أم نهارًا. قال العوَّام: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿، ثم قرأ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: 95 - 96] (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی، آپ ﷺ کی ملاقات ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، پس انہوں نے قیامت کے متعلق گفتگو کا آغاز کیا اور ابراہیم علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان کے پاس اس (کے وقت) کا کوئی علم نہ تھا، پھر انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی اس کا کوئی علم نہ تھا، پھر معاملہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کے علاوہ اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کے متعلق مجھے خبر دی ہے، جہاں تک اس کے برپا ہونے کے عین وقت کا تعلق ہے تو اسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا“، پھر انہوں نے دجال کے خروج کا ذکر کیا اور فرمایا: ”پس میں (آسمان سے) اتروں گا اور اسے قتل کر دوں گا، پھر لوگ اپنے ملکوں کی طرف لوٹ جائیں گے تو ان کا سامنا یاجوج و ماجوج سے ہوگا جو کہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، وہ جس پانی سے گزریں گے اسے پی جائیں گے اور جس چیز کے پاس سے گزریں گے اسے فاسد کر دیں گے، پس لوگ (پریشان ہو کر) میرے پاس فریاد کریں گے، تو میں اللہ سے دعا کروں گا اور وہ آسمان سے پانی برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اور اللہ نے مجھ سے یہ عہد فرمایا ہے کہ جب یہ سب ہو جائے گا تو قیامت لوگوں کے لیے اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جس کے وضع حمل کا وقت پورا ہو چکا ہو اور اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ وہ اچانک کب بچے کو جنم دے گی، رات کے وقت یا دن کے وقت۔“ راوی عوام کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں پائی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے، اور سچا وعدہ قریب آ جائے گا۔“ [سورة الأنبياء: 96 - 97]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8852
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق كما سلف بيانه برقم (3489)» [ترقيم الرساله 8852] [ترقيم الشركة 8742]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: فيستقبلوهم، والمثبت هو الجادّة.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ’فیستقبلوہم‘ ہے، جبکہ متن میں جو لکھا گیا ہے وہی معیاری طریقہ ہے۔
(2) إسناده ضعيف من جهة تفرُّد مؤثر بن عفازة بهذا السياق كما سلف بيانه برقم (3489). ومحمد بن مسلمة الواسطي وإن كان ليِّن الحديث، قد توبع عليه عن يزيد بن هارون فيما سلف.
درجۂ حدیث: اس کی سند مؤثر بن عفازہ کے اس سیاق میں تفرد کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ نمبر (3489) کے تحت بیان ہوا۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن مسلمہ واسطی اگرچہ حدیث میں کمزور (لیّن الحدیث) ہیں، لیکن یزید بن ہارون سے روایت میں ان کی متابعت موجود ہے جیسا کہ گزر چکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8852 سے ماخوذ ہے۔