المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
السَّاعَةُ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَأُهُمْ باب: قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والوں کو نہیں پتہ کہ وہ کب اچانک ظاہر ہو جائے
حدیث نمبر: 8854
أخبرني أبو الطيّب محمد بن الحسن الحِيري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: خرج حُذَيفةُ بظَهْر الكوفة ومعه رجلٌ، فالْتفَتَ إلى جانب الفُرات، فقال لصاحبه: كيف أنتم يومَ تراهم يَخرُجون أو يُخرَجون منها لا يَذُوقون منها قطْرةً؟! قال رجل: وتظنُّ ذاك يا أبا عبد الله؟! قال: ما أظنُّه، ولكن أَعلمُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کوفہ کے باہر نکلے اور ان کے ساتھ ایک شخص تھا، انہوں نے فرات کی جانب دیکھا اور اپنے ساتھی سے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم انہیں دیکھو گے کہ وہ وہاں سے نکل رہے ہوں گے یا نکالے جا رہے ہوں گے اور اس (فرات) کے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں چکیں گے؟“ ایک شخص نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کیا آپ کا ایسا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں بلکہ میں یہ بات (یقین سے) جانتا ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 234 عن وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ [15/ 234] نے وکیع عن اسماعیل بن ابی خالد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 234 عن وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ [15/ 234] نے وکیع عن اسماعیل بن ابی خالد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8854 سے ماخوذ ہے۔